کنیسٹ (صہیونی پارلیمان) میں اپوزیشن جماعتوں نے نیتن یاہو کے "عدالتی بغاوت" کا نام دیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو گذشتہ کو کئی سالوں سے رشوت اور امانت میں خیانت جیسے الزامات کی بنیاد پر مقدمے کا سامنا ہے، اور وہ "عدالتی نظام کی اصلاح" کے بہانے مقدمے سے چھوٹنا چاہتا ہے۔
گذشتہ 70 برس میں یہ مسئلہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور صیہونی رژیم اس چیلنج سے روبرو رہی ہے۔ مزید برآں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے میں مزید شدت آ رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں سے ہجرت کر کے مقبوضہ فلسطین میں بسنے والے صیہونیوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
غاصب صیہونی حکومت اپنی تمام تر کمزوریوں کو مخفی رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور اسی وجہ سے شام اور اس سے ملحقہ علاقوں پر متعدد اوقات میں بمباری کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت جنگ کرسکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
حریف سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات معمول کی بات ہے اور اس کا حتمی نتیجہ کسی ریاست کا خاتمہ نہیں ہو سکتا لیکن جب صیہونی حکمران اپنی رژیم کی حدود سے بڑھ کر آپس میں اختلافات رکھتے ہیں تو نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے۔
اسلام کے خلاف صیہونیوں کی سازشیں پے در پے ناکام ہو رہی ہیں، کیونکہ ان تمام تر باطل افکار کے مقابلے میں ایک ایسی مزاحمت اور حقیقی اسلام پائیداری کے ساتھ مقابلہ پر کھڑا ہے کہ جو دنیا میں امن و محبت کے قیام کی بات کرتا ہے، لیکن ظلم و جبر اور استبداد سے نہیں بلکہ عادلانہ بنیاد پر۔
مخالفین اس منصوبے کو نیتن یاہو کے لیے قانونی الزامات سے بچنے کے راستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ نیتن یاہو کے مجوزہ منصوبے کی منظوری کنیسٹ کے اراکین کو بغیر کسی نگرانی کے نیتن یاہو کے بدعنوانی کے الزامات کے کیس کو بند کرنے کی اجازت دے گی اور اراکین پارلیمنٹ انہیں بدعنوانی کے الزامات سے بری کرنے کے لیے ووٹ دیں گے۔
یہ ایسی صورتحال ہے کہ جس نے پوری مسلم دنیا میں خوشی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ یقینی طور پر اس صورتحال سے اگر کوئی ناخوش ہے تو وہ شکست خوردہ امریکی حکومت اور اس کے حواری برطانوی استعمار اور ناجائز اولاد اسرائیل ہیں کہ جو خطے کی ان تبدیلیوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: امریکہ کے بعض صہیونی حلقوں نے ـ مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کو درپیش اندرونی بحران کے پیش نظر ـ جعلی صہیونی ریاست کی اندر ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ تل ابیب گولی اپنی کنپٹی پر گولی مار رہا ہے، اور امریکہ میں اپنی ساکھ […]
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2022ء کے آغاز سے اب تک مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مزاحمتی کاروائیوں کے نتیجے میں 60 سے زائد صیہونی ہلاک جبکہ دسیوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاصب صیہونیوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں جبکہ فلسطینی مجاہدین کسی خوف کے بغیر صیہونی فوج اور فوجیوں کے سامنے آ کر حملہ ور ہوتے ہیں۔