کون نہیں جانتا کہ اگست 2022ء میں غزہ پر اسرائیلی فوج کے تین روزہ حملے میں 16 بچوں سمیت کم از کم 44 فلسطینی شہید ہوئے تھے، یہ مئی 2021ء میں ہوئے "آپریشن گارڈین آف دی والز" کے بعد سب سے خونریز واقعہ تھا، اگست کے اس واقعے کے نتیجے میں اسرائیلی ہلاکتیں "صفر" تھیں مگر اس کے باوجود اس نسل کشی کو بھی غیر اہم خبروں کے درمیان "جھڑپوں" کا نام دیا گیا۔
مسئلہ فلسطین کو ایک عالمی اور اسلامی مسئلہ کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایک انسانی مسئلہ ہونے کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔ آج ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے باشعور اور درد رکھنے والے انسانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسئلہ فلسطین کی حقیقت کو بیان کریں، مسئلہ فلسطین کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بیان کریں، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ہونے والے فلسطینی عوام کی کوششوں میں ان کی مدد کریں۔
بس اس بچے کا قصور تو یہی تھا کہ وہ فلسطینی تھا۔ کیا عالمی برادری کا ضمیر جاگے گا؟ میں ایک لکھاری ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ یہ سوال اٹھاتا رہوں گا کہ عالمی برادری اور دنیا میں انسانی حقوق کا دم بھرنے والے عالمی ادارے اور اسی طرح کے دیگر ادارے کہ جو جانوروں کو تکلیف پہنچنے پر واویلا برپا کر دیتے ہیں، کیا کبھی دو سالہ فلسطینی محمد التمیمی کے قتل پر خواب غفلت سے بیدار ہوں گے؟
خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کے تناظر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے وزارت خارجہ کے تمام مشیروں اور عہدیداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ خطے کے مسلسل دوروں کو اپنے مستقل ایجنڈے میں شامل کر لیں۔ امریکی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ، امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سیلیوان کے دورہ سعودی عرب کے کچھ ہفتے بعد انجام پا رہا ہے۔
سعد اللہ زارعی نے سعودی عرب اور ایران کے بارے میں اس مشہور تصور کو غلط قرار دیا کہ خطے میں تمام کشیدگی کا تعلق ایران اور سعودی عرب سے ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ سعد اللہ زارعی نے اس بات پر زور دیا کہ "یہ مسئلہ درست نہیں ہے، جیسا کہ عراق اور افغانستان پر فوجی قبضے میں سعودی عرب ملوث نہیں تھا۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے عید مزاحمت اور جنوبی لبنان کی آزادی کی سالگرہ کی مناسبت سے اپنی تازہ ترین تقریر میں کہا: "اسلامی مزاحمتی بلاک میں انسانی قوت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل میں انسانی قوت زوال کا شکار ہے اور اسرائیلی فوجی جنگ سے بھاگ رہے ہیں۔" سید حسن نصراللہ نے اس جملے کے بعد غاصب صیہونی رژیم کو درپیش بحرانوں کا تذکرہ شروع کیا اور ثابت کر دیا کہ وہ صیہونی دشمن کی کمزوریوں سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں۔
گذشتہ ہفتے پاکستانی دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ میں اعلان کر دیا کہ پاکستان کسی روسی بلاک میں نہیں جا رہا، ہمارے امریکہ کیساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم بلاکس کی سیاست نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ، یہ وضاحت دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟؟ اپنی نوکری بچانے کی فکر ہے شائد۔ اس لئے پاکستان کو توڑنے کے منصوبے بہرحال ہیں، لیکن پاکستان کے عوام ان سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ یہ 70 کی دہائی نہیں، بلکہ 2023ء چل رہا ہے، نوجوان باشعور ہیں، اچھے بُرے کی تمیز بھی جانتے ہیں۔ یہ وطن ہماری دھرتی ماں ہے اور ماں کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے، ہم باہمی اتحاد سے دھرتی ماں کو مزید ٹکڑے ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
صہیونی ذرائع نے کچھ عرصے سے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے بیرونی تنازعات میں شدت لانے کے لئے اقدامات پر تشہیری مہم کا آغاز کیا ہے، یہاں تک کہ آئی-12 ٹی وی چینل نے ـ امریکہ کی حمایت یا عدم حمایت کی صورت میں ـ بزعم خود، ایران کی جوہری تنصیبات اسرائیلی حملے کے منظرنامے کا جائزہ لیا ہے۔ اس منظرنامے میں اس حملے کی تفصیلات اور اس کے لئے مناسب وقت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
اسلامک جہاد فلسطین کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کی ایک اور اہم خصوصیت اسلامی ممالک میں سرگرم تنظیموں اور گروہوں سے ان کا قریبی رابطہ ہے۔ انہوں نے لبنان میں اپنی رہائش کے دوران کئی اسلامی ممالک کا دورہ کیا۔ اسی طرح ان کی غیر متنازعہ شخصیت تمام اسلامی گروہوں اور ممالک کی نظر میں قابل احترام ہے۔