امریکہ، اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور دیگر مغربی طاقتیں ایران سے توقع کر رہی تھیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کر دے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لہذا امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ چونکہ امریکہ محسوس کرتا ہے کہ ایران کے خلاف شدید اقتصادی پابندیوں کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا لہذا اس نے اب الزام تراشی والا طریقہ کار اپنا لیا ہے۔
لہذا اسرائیل کے نمک خواروں کے پاس اس طرح کے سادہ اور بنیادی سوالوں کے منطقی جواب موجود نہیں ہیں۔ پس یہ ثابت ہوا کہ اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی ایک ناجائز ریاست ہے۔ فلسطین پر صرف اور صرف فلسطینی مقامی عربوں کا حق ہے اور دنیا بھر میں جو کوئی بھی صہیونیوں کی غاصب ریاست کی حمایت کرتا ہے۔
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: 18 مئی کا دن عبری کیلنڈر کے مطابق 28 آیار ہے۔ اس دن ہر سال مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی آبادکار “پرچم ریلی” یا فلیگ مارچ منعقد کرتے ہیں۔ یہ مارچ باب العامود اور بیت المقدس کے پرانے محلوں سے گزر کر مسجد اقصی کے صحن میں پہنچتا ہے اور پھر […]
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: مقبوضہ علاقوں کے صہیونی غاصج جنگ کے تسلسل سے تھک کر اکتا چکے ہیں اور جنگی علاقوں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ جہاد اسلامی تحریک (حرکۃ الجہاد الاسلامی) کا نیا ہتھیار “اعصاب کی جنگ”۔ مقبوضہ فلسطین پر قابض صہیونی ان دنوں پریشانی، خوف و ہراس اور پناہ گاہوں میں چھپنے کے لئے […]
اس ہفتے کے آغاز میں میں صہیونی ٹیلی وژن کے پروگرام میں ہونے والے اس مکالمے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ "جنرل اسماعیل قاآنی فلسطین سے لے کر عراق تک اور خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک کے محاذوں کو متحد کر رہے ہیں، ایران اور مقاومت کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ان کا راستہ روکنے والا کوئی بھی نہیں ہے"؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ علاقائی توازن میں اسلامی جمہوریہ ایران اور مقاومت کا پلڑا بھاری ہو چکا ہے؛ چنانچہ پسپائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ہوگا وہی جو درست ہے۔
چین کی وساطت سے، ایران-سعودی سمجھوتے پر دستخطوں نے ایک دنیا کو حیران کر دیا اور تجزیہ کاروں کو اس اہم اور غیر متوقعہ واقعے کی مختلف جہتوں پر بحث و مباحثے کی طرف راغب کر دیا۔
صہیونی اخبار اسرائیل ہایوم نے ایران-سعودی سمجھوتے کو جعلی صہیونی ریاست کے لئے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ صہیونی ریاست ہمیشہ کے لئے خطے میں کشیدگی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے چنانچہ خطے میں کسی بھی قسم کا اتحاد و استحکام یہودی ریاست کے مفادات کے لئے بری طرح نقصان دہ ہے۔
کینیڈا کی نیشنل ایبوریجنل ایسوسی ایشن کے سربراہ "پیری بالگرڈ" نے کہا کہ کینیڈا کے سابق بورڈنگ اسکولوں میں قبروں کا ملنا کوئی نئی بات نہیں، انہوں نے اسے ایک پرانا زخم قرار دیا، جسے دیکھنا ہمیشہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
اسرائیل کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مسلسل ناکامیوں، خاص طور پر ابراہیم معاہدے کی ناکامی اور عرب ممالک سے سازباز پر مبنی منصوبے کی شکست کے بعد علاقائی سطح پر ایک ایسے موقع کی تلاش تھی جس سے فائدہ اٹھا کر گذشتہ ناکامیوں کا ازالہ کر سکے۔ یہ موقع اسے سوڈان میں فراہم ہو چکا ہے۔