اگر کسی وقت جعلی ریاست کو مقاومت کے خلاف ہر اقدام کا ایک جواب ملتا رہتا تھا، آج کی صورت حال یہ ہے کہ یہ ریاست زیادہ شدید حملوں کا نشانہ بنتی ہے اور صہیونیوں کی کمزوری کا سبب اس حکمت عملی کا نفاذ ہے۔
ایران اور سعودی عرب کے مذاکرات امت مسلمہ کے مابین اتحاد و وحدت کا سنگ میل طے کریں گے۔ ایران سعودیہ اتحاد نے مغربی اثر و رسوخ کے تابوت میں کیل ٹھونک دیا ہے۔ ان شاء اللہ مشرق وسطیٰ میں یہ سرد جنگ ختم ہوگی اور امریکی مفادات کا قبرستان بنے گا۔
متحدہ عرب امارات کہ جہاں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے تعلقات سب سے زیادہ مضبوط ہیں وہاں بھی 17 فیصد عوام نے غاصب اسرائیل کو ناجائز اور امن کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ اسی سروے رپورٹ کے مطابق قطر کی 57 فیصد عوام اور مراکش کی 56 فیصد عوام نے اسرائیل کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کا وجود باقی رہنا دنیا کے لئے سنگین خطرہ ہے۔
اسلام میں علما کی عظمت پر کثیر مواد موجود ہے لیکن نیم ملّائی نظام نے اس مواد کو اپنی مرضی اور مفاد کے تحت استعمال کیا ۔مختلف مکاتیب فکر میں اصحاب،ائمہ اور علماکے لئے جو تقدیسی فلسفے تراشتے گئے ،آیا ان کی قرآن اور سنت سے تطبیق کی جاسکتی ہے ؟
اسرائیل کیلئے یہ معلومات اس لئے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں کہ مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے پاس مشابہہ ایرانی ڈرونز موجود ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ حال ہی میں فلسطینی مجاہدین نے خودکش ڈرونز کا تجربہ بھی کیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے پاکستان سے دوستی کی کوشش پہلی مرتبہ قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں ہی ہوئی تھی لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کی جانب سے بھیجے گئے ٹیلی گرام کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان کے لئے سرخ لکیر کھینچ کر بتا دیا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
امریکہ ایران کیخلاف وسائل خرچ کرنے کے بجائے اپنی معاشی حالت پر توجہ دے، امریکہ کی معیشت دیوالیہ ہونے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ انقلاب روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو کی سابقہ کارکردگی کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی نئی حکومت میں فلسطینیوں پر دباؤ بڑھائے گا، فلسطینیوں کے مزید اراضی اور وسائل صہیونیوں کے ہاتھوں غارت ہونگے، نیتن یاہو علاقائی اور بین الاقوامی ضوابط کو پامال کرے گا اور علاقائی تناؤ میں بھی اضافہ ہوگا، بالنتیجہ، وہ اپنی حکومت کا چار سالہ دور مکمل نہیں کرسکے گا۔
فلسطینی مقاومت کے 21 سالہ نوجوان "خیر اللقم" نے مقبوضہ قدس شریف کے قصبے "نبی یعقوب" میں غاصب یہودی ریاست کی بنیادوں پر لرزہ طاری کردیا۔