نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ روس نے یوکرین کے خلاف شروع کی ہے اور برعکس درست نہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس نے روس کے ساتھ نیتن یاہو کے تعلقات کو مکمل طور پر نابود کر ڈالا تھا کیونکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ایسے موقف کو گذشتہ معاہدوں سے غداری تصور کرتے ہیں۔
صہیونیوں پر اس ملک کا اثر یہ ہے کہ اس نے اپنے دشمن کے آگے سر جھکایا ہے اور یوں یہودی ریاست پہلے سے کہیں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہے اور اس کو قبول کرنا ہوگا کہ یہ سمجھوتہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے بھاری سائے میں منعقد ہؤا ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے وہ نہ صرف حکومت یا سیاسی جماعتوں بلکہ صہیونی یہودیوں کے اندر بھی تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کے جراثیم پیدا کررہا ہے۔
فلسطینی مجاہدین کی کاروائیوں کی حدود حالیہ ہفتوں میں جنین نابلس اور جنوب سے مقبوضہ قدس شریف تک پھیل گئی ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ یہودی ریاست کے حکمرانوں کے بقول، "ماضی میں جنگ اسرائیل کے خلاف [باہر سے] ہؤا کرتی تھی اور آج جنگ اسرائیل کے اندر ہے"۔
ایران میں صہیونی دہشت گرد نیٹ ورک کی گرفتاری نے غاصب اسرائیل کے ڈھانچے میں عظیم بھونچال کا سبب بنی اور اس کے سامنے یہ سوالیہ نشان لگا دیا کہ "ایران نے ایک انتہائی خفیہ اور پیچیدہ کاروائی کو کیونکر ناکام بنایا ہے"۔
فلسطین کے تمام مقبوضہ علاقوں میں موومینٹ تیز ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور اسی تناظر میں جنین کیمپ میں شہدائے استقامت کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے استقامتی گروہوں کی فوجی شاخوں کے ترجمان نے صیہونی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی مجاہدین اور کمانڈروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسرائیل کو بھرپور جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکہ نے دوسری عالمی جنگ اختتام پذیر ہونے کے بعد یورپ کی تعمیر نو کیلئے مارشل پلان پیش کیا اور اس منصوبے کی آڑ میں یورپی ممالک پر بھی اپنا تسلط جمانے کی بھرپور کوشش کی۔
ہم امریکی اڈوں کے میزبان ہمسایہ ممالک سے کہتے ہیں کہ امریکہ جلدی یا بدیر اس خطے سے نکل جائے گا، [بالکل افغانستان سے فرار کی طرح]؛ لیکن ہمارے اور اپ کے مقدرات - سرزمین کے لحاظ سے بھی اور تزویراتی اور سلامتی کے لحاظ سے بھی - یہ ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہیں [یعنی یہ کہ پڑوسیوں کو بدلا نہیں جا سکتا؛ اور بقائے باہمی کے قواعد کا پاس رکھنا چاہئے]۔
ترکی ایک مسلمان ملک ہے اور دنیا کے عوام کے مابین ترک حکومت کی عزت اسی لئے تھی کہ ترک حکومت نے ماضی میں فلسطین کاز کی حمایت میں اقدام اٹھائے تھے، لیکن اب رفتہ رفتہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ترک حکومت مسلسل امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل ہے، جسکے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان ترک حکومت کی اہمیت اور عزت ختم ہو رہی ہے۔