امریکہ جن ملکوں کو تنہا کرنے چلا تھا، وہ آج بھی مستحکم ہیں، کویت نے چھ سال بعد ایران سے سفارتی تعلقات بحال کر لئے ہیں۔ عراق اور شام بھی ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ روس کیساتھ بھی ایران کے تعلقات مضبوط ہیں اور چین بھی اس ساری صورتحال میں اہم کھلاڑی ہے۔
Haaretz اخبار نے اپنے ایک مضمون میں غزہ میں حالیہ تین روزہ جنگ کے نتائج پر بحث کی ہے اور اسے صہیونی فوج کی مکمل شکست قرار دیا ہے۔
مسئلہ فلسطین سے متعلق قابل عمل واحد حل ہے کہ جس پر تمام فلسطینی متفق ہیں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ آج دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مہاجر فلسطینی کی پہلی خواہش یہی ہے کہ اس کو وطن واپسی کا حق حاصل ہو، حق خود ارادیت ہو، تاکہ وہ اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔
لگ یوں رہا ہے کہ امریکہ نے دوبارہ جنگی پالیسی کو اختیار کیا ہے، جس کے تحت روس یوکرین کو آپس میں لڑا دیا ہے اور یورپ کو اس میں الجھا دیا گیا ہے۔ اس کے اثر کا اندازہ لگائیں، روس تو ویسے ہی بین الاقوامی نظام سے اتنا جڑا ہوا نہیں ہے، یورپ کی معیشتیں ہل گئی ہیں۔ یورو اور ڈالر کی قدر میں بہت فرق ہوتا تھا، یورو کی قدر ڈالر کے مقابلے کافی زیادہ ہوتی تھی، مگر اب ڈالر اور یورو برابر آچکے ہیں۔
جوئے بائیڈن کے دورے کے فوراً بعد روسی صدر ولادیمیر پوتین اور ترکی صدر طیب رجب اردوغان ایران پہونچ گئے ۔ایرانی صدر کے ساتھ ان کی تصویریں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ نیا ورلڈ آڈر تیار ہوچکاہے ۔یہ تصویریں ان طاقتوں کی نیندیں اُڑا دینے والی تھیں جو عالمی سطح پر ایران کو تنہا کرنا چاہتی ہیں
فلسطین امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا دورہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر پایا ہے، کیونکہ فلسطینی دھڑوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ غاصب صیہونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔
اب تک روس اور ایران نے مل کر خطے میں داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ روسی صدر کا دورہ تہران ظاہر کرتا ہے کہ یہ تعاون جاری رہے گا اور خطے کے استحکام کیلئے یہ حکمت عملی مزید آگے بڑھائی جائے گی۔
شام کے مسئلہ پر ترکی اور ایران میں بہت سے اختلافات ہوئے، مگر ایران نے ان معاملات کو سفارتی انداز میں حل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب ترکی فوجی اقدامات کے ذریعے شام میں کچھ خاص کامیابیاں حاصل نہیں کرسکا تو ایران اور روس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
تہران میں سربراہی اجلاس کے انعقاد سے پہلے شام کے کرد نشین علاقے میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس نے امید کی کرن روشن کر دی ہے۔