جیسا کہ مغربی اہلکاروں نے اپنے پیغامات میں کہا ہے، اگر بائڈن کا دورہ مغربی ایشیا "ایران کا دورہ" ہو، تو ہم ابھی سے مسٹر پریزیڈنٹ کے مشیروں سے کہتے ہیں کہ "بڈھے کو بلا وجہ مت ستاؤ"۔
صہیونی تحریک کو درپیش بحران ایک ساختیاتی بحران ہے جو سیاسی-جماعتی بحران سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ بحران مزید شدت پا جائے گا اور مزید گہرا ہو جائے گا، کیونکہ اس بحران و تعطل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ گو کہ یہ ایک ایسا بحران ہے جو فلسطین کاز، غاصب اسرائیلی ریاست کی اصل حقیقت [اور نوعیت] نیز صہیونیوں کے باہمی تنازعات اور چپقلشوں سے تعلق رکھتا ہے۔
موجودہ اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی شہریوں کو بہت اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ ہم لیکوڈ پارٹی کی سربراہی میں ایک وسیع کابینہ تشکیل دیں گے۔
شاہ عبد اللہ نے کہا کہ " میں چاہتا ہوں کہ اس علاقائی محاذ میں اور بھی زیادہ ممالک حصہ لیں اور میں ان پہلے لوگوں میں ہوں گا جو مشرق وسطی میں اس علاقائی نیٹو کے وجود میں آنے کی حمایت کرنے والے ہیں ۔
جوبائڈن عرب ریاستوں کو کچھ ہتھیار بیچ کر اور انہیں تیل کی پیداوار بڑھانے پر آمادہ کرکے، واپس واشنگٹن کی طرف پرواز کر جائیں گے اور اس میں شک نہیں ہے کہ غاصب یہودی ریاست کے زعماء بائڈن کے دورے کے بعد عرب ممالک کے ساتھ طویل المدتی اتحاد کی حسرت دل میں لیے رہیں گے، انہیں ایک بار پھر مایوسی کے سوا کچھ نہ ملے گا اور انہیں اپنی تباہ کاریوں سے بھری تاریخ کی آٹھویں دہائی کے آخر میں اپنا زوال پہلے سے زیادہ واضح نظر آئے گا۔
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: جرئت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دو عشروں میں امریکہ اور صہیونی کسی بھی میدان میں فتح و کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سیاسی تشہیری مہم کے ذریعے یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا تمام معاملات کا فیصلہ اب […]
اگر ہم “تخمینوں [اندازوں] اور تعلقات کی تبدیلی” کو اسلامی انقلاب کا اہم ترین مقصد سمجھیں ـ وہی جن پر اسلامی انقلاب کے نعرے بھی مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں ـ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ “اگرچہ اسی لمحے بھی امریکی نامی طاقت، اس کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر ـ منجملہ زور، دولت، طبقاتی نظام اور اس کے [جدید دور کی] خرافاتی روایتیں ـ بدستور موجود ہیں؛ لیکن اسلامی انقلاب نے ایک طرف سے اس کے جواز کو چیلنج کیا ہے، اور دنیا والوں کی آنکھوں سے گرا دیا ہے اور دوسری طرف سے دنیا کا ایک وسیع اور حساس حصہ امریکہ اور اس کی طاقت کے عناصر و عوامل نیز پورے مغرب کے تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ وہی امریکہ ہے، جس نے عراق، شام، مصر اور دیگر ممالک میں اپنے پیٹھو حکمرانوں کو عبرت کا نشان بنایا ہے اور مذکورہ ممالک کے تباہی کے دوران یہ باتیں زباں زدِعام تھیں کہ اگلی باری کس کی ہوگی، یہ آگ کہاں تک پہنچے گی۔؟؟ بعض مبصرین نے اُس وقت بھی ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اگلا ٹارگٹ پاکستان ہوگا۔
روس کو الجھا کر یورپ کو مصروف کرکے اب مشرق وسطیٰ کی باری ہے کہ انہیں کیسے چین کے خلاف استعمال کیا جائے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ جس اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں اور جس کے لیے امریکی صدر خطے میں آرہے ہیں، وہ فقط مشرق وسطیٰ سے تعلق نہیں رکھتا۔