رہبر معظم نے یوم القدس کے موقع پر خطے میں امریکی پالیسیوں کی مطلق ناکامی پر زور دیا، اور اس ناکامی نے ایک طرف سے فلسطین کے قابضوں پر لرزہ طاری کیا ہے؛ دوسری طرف سے فلسطینیوں کے درمیان دوہری امید کی نئی لہر دوڑائی ہے اور ان کی مقاومت میں زبردست اضافہ کیا ہے۔
شہاب ڈرون طیاروں کے ذریعے اسلامی مزاحمت نے مختلف کاروائیاں انجام دی ہیں جن میں سے النقب صحرا میں "نیر عوز" قصبے میں صہیونی آئل ریفائنری پر حملہ قابل ذکر ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق شہاب ڈرون طیارہ، ابابیل ڈرون طیارے سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔
ضرورت تو مسلمان عوام کو بیدار ہونے کی ہے کہ وہ پہلے اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کو شناخت کریں۔ لباس اور زبان سے دھوکہ نہ کھائیں۔ اسلام کسی خاص وضع قطع، لباس اور زبان کا نام نہیں بلکہ یہ تعلیمات اور نظریات کا مجموعہ ہے۔
وہ انسان جو اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے بالکل ایسا ہی ہے جس نے اپنے پورے سرمایے کو لٹا دیا ہو وہ کسی سے بھی ضمیر کا سودا کرنے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہی نہیں وہ کیا ہے اور اسکا وجود کس لئے ہے وہ کہاں سے آیا ہے کہاں جانا ہے مقصد حیات کیا ہے بلکہ وہ تو اپنے وجود کی بھول بھلیوں میں خود کو بھٹکتا پا کر لذت محسوس کرتا ہے ۔
یوم القدس کی مناسبت سے سید حسن نصراللہ کی تقریر چند اہم اور اسٹریٹجک پیغامات کی بھی حامل تھی۔ یہ پیغامات غاصب صہیونی رژیم اور اس کے حامیوں کو وارننگ کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے سازباز کرنے والی خطے کی چند خلیجی ریاستوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے ملک سے اسرائیل کی کسی قسم کی مشکوک سرگرمی کا مشاہدہ کیا گیا تو فوراً اس کا جواب دیا جائے گا۔
اذان کے لئے تو واضح ہو گیا کہ اسلام کا حصہ ہے اور شریعت کا حکم ہے اب بات رہ جاتی ہے مائیک پر اذان دینے کی، تو ظاہر ہے اسکا تعلق دین سے نہیں ہے اسکا تعلق ہر ملک کی ثقافت و کلچر سے ہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے یہاں دیگر مذاہب کے پروگراموں میں لاوڈ اسپیکر استعمال ہوتا ہے یا نہیں ؟
امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے کارناموں میں ایک بڑا کارنامہ مسئلہ فلسطین کو ایک اسلامی اور انسانی مسئلہ کی صورت بیان کرنا ہے یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں کہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے فلسطین کے مسئلہ کو ایک اسلامی مسئلہ کے طور پر پیش کیا جبکہ بعض ممالک اسے ایک عربوں کے مسئلہ کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
آج صہیونیوں پر زمین تنگ ہو چکی ہے اور فلسطینیوں کے سامنے نئے نئے راستے کھل چکے ہیں۔ فلسطین جوان مسجد اقصی کے دروازے پر صہیونی فورسز کا مقابلہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
فلسطین کی اسلامی سرزمین پر اسرائیل جیسی جعلی ریاست تشکیل دینے پر مبنی مغربی دنیا کے مجرمانہ اقدام کو 74 سال گزر جانے کے بعد بھی یہ جعلی رژیم اسلامی مقدس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔