یوم القدس، جسے امام خمینی نے یوم اللہ، یوم الاسلام قرار دیا اور فرمایا کہ اس روز ہر مسلمان اسرائیل کے غاصب قبضہ کے خلاف میدان میں آئے، اس روز کو منائے، ہم اس فرمان اور حکم کی تعمیل میں مظلوم فلسطینیوں کی آواز بن کر ان کے حقوق کی بازیابی، اسرائیل کی نابودی اور قبلہ اول کی آزادی کیلئے پوری شدت اور قوت سے میدان میں نکلیں گے۔
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: دو دنوں سے دل بڑا رنجیدہ ہے، صیہونی فورسز مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ آور ہیں اور تمام حدیں پار کرتے ہوئے مسجد کے اصل کمپاونڈ جہاں نماز جماعت ہوتی ہے، وہاں داخل ہوگئی ہیں۔ نہتے نمازی اسرائیلی بربریت سے بچنے کے لیے بار بار مسجد کے ستونوں کی پناہ لے […]
تکفیری دہشت گردی کا اہم ترین "مخصوص دھندہ" اسلامی ممالک کے ثقافتی اور اسلامی ڈھانچے کو متزلزل کرنا اور نتیجے کے طور پر مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قیام کو روکنا ہے۔
روس نے اسے امریکہ کی جانب سے آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں خود غرض مقاصد کی خاطر شرمناک مداخلت کی کوشش قرار دیا۔ جب دنیا اس بات کا ادراک کرچکی ہے اور پاکستانی عوام بھی بیدار ہوچکے ہیں، تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ سے انخلا کی صدی ہے۔
سعودی عرب نے جنگ بندی کا اعلان کرنے سے پہلے متحدہ عرب امارات اور یمن کی عبوری کونسل کو اعتماد میں نہیں لیا۔ متحدہ عرب امارات اور یمن کی عبوری کونسل نے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی معاونت کی ہے لیکن جنگ بندی سے پہلے سعودی حکمرانوں نے ان سے مشورہ تک نہیں کیا۔
اردوگان نے روس سے ایس-400 کا میزائل شکن و طیارہ شکن نظام خرید کر امریکہ کی نسبت بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے امریکہ نے ترکی کو ایف-35 طیاروں کے منصوبے سے الگ کر دیا۔ امریکہ نے حال ہی میں اردوگان کو ایس-400 فضائی دفاعی نظام یوکرین منتقل کرنے کی تجویز دی اور اعلان کیا کہ اگر اردوگان ایسا کریں تو واشنگٹن اس کی قیمت کا کچھ حصہ انقرہ کو ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔
اسرائیل میں برسراقتدار آنے والی ہر حکومت کا سب سے پہلا اور اہم ترین نعرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنائے گی۔
آج یمنی عوام کی قتل و غارت کو سات سال مکمل ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ جو اسلحہ دن رات یمنی عوام کے خلاف بروئے کار لایا جا رہا ہے وہ آل سعود رژیم نے کن ممالک سے حاصل کیا ہے؟
حیرت کی بات ہے کہ کوئی اس جانب بھی متوجہ نہیں کہ اسرائیل خود تو دنیا بھر سے صیہونیوں کو اپنی مقدس سرزمین پر جمع کر رہا ہے اور وہاں ایک صیہونی ریاست کو مضبوط کر رہا ہے جبکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کو ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا ہے۔