کل 5105 آج 0
  • مطابق با: Sunday - 18 - January - 2026
  • بایگانی‌های سیاسی تجزیہ - صفحه 29 از 45 - فاران

    سانحہ پشاور، حکمران اور مقتدر حلقے ذمہ دار

    سانحہ پشاور، حکمران اور مقتدر حلقے ذمہ دار

    دوغلی پالیسی کا نتیجہ تو ایسے ہی بے گناہوں کے خون سے رنگین ہوتی مساجد کی صفیں اور مدارس و مزار و دربار ہی ہونگے۔ خدا را اس ملک و ملت کے ساتھ اب یہ ظلم بند ہونا چاہیئے کہ قاتل نامعلوم ہے۔ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، دہشت گردی کے پیچھے افغانستان اور را ملوث ہیں۔ یہ جنگ ہماری جنگ نہیں ہے، افغان طالبان اور تحریک طالبان الگ الگ ہیں، یہ دھوکہ دہی، یہ فریب اب ختم ہونا چاہیئے۔

    مسئلہ فلسطین اور عالمی برادری کی بیان بازی

    مسئلہ فلسطین اور عالمی برادری کی بیان بازی

    فلسطینی عوام مزید کسی دھوکہ کو برداشت کرنا نہیں چاہتے۔ فلسطینیوں کا پیغام واضح ہے کہ ہمیں مغرب اور عرب کے کھوکھلے بیانات سے کوئی امید نہیں ہے۔ ان بیانات سے نہ تو مسئلہ فلسطین کا کوئی منصفانہ حل تلاش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی عملی صورت سامنے آسکتی ہے۔

    امریکہ کی بے وفائی، سبق آموز

    امریکہ کی بے وفائی، سبق آموز

    ماہرین سیاسیات نے کہا ہے کہ حقیقت میں روس نے امریکی اجارہ داری کو ایک مرتبہ پھر خطے میں پنپنے سے روک دیا ہے۔ یہ جنگ بظاہر یوکرائن کی فوج کے ساتھ لڑی جا رہی ہے، لیکن یوکرائن کی پشت پناہ قوتوں میں امریکہ اور اسرائیل سمیت ہر وہ طاقت ملوث ہے، جو اس خطے میں امن و امان کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔

    مغرب کے بنائے ہوئے قوانین مغرب پر لاگو نہیں ہوتے!
    اچھی جنگ اور بری جنگ / منافق مغرب کے دہرے معیار

    مغرب کے بنائے ہوئے قوانین مغرب پر لاگو نہیں ہوتے!

    یمن کے عوام کی مظلومیت کے لئے کسی نے بھی ہیش ٹیگ ٹرینڈ نہیں کئے، جارح سعودی اور نہیانی ریاستوں پر کوئی پابندی نہیں لگی، انہیں کسی بھی سپورٹس پروگرام کی میزبانی سے محروم نہیں کیا گیا اور ان ریاستوں کے تیل اور گیس کی برآمدات جاری ہیں۔۔

    شیطان بزرگ کے لیے نیا خطاب ’’جھوٹ کی سلطنت‘‘

    شیطان بزرگ کے لیے نیا خطاب ’’جھوٹ کی سلطنت‘‘

    امریکا کے جھوٹ تو ساری دنیا پر آشکار ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک نے کہا کہ عراق کی صدام حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔ یہ کہہ کر ان کی افواج نے عراق پر چڑھائی کر دی۔ عراق کے عوام پر اس کے بعد جو گزری، ساری دنیا اس کی شاہد ہے۔ دو ملین سے زیادہ انسان خون میں نہا گئے۔ پورا ملک تباہی اور بربادی کی داستانیں بیان کر رہا ہے۔ امریکہ ابھی تک عراق کے عوام کی جان چھوڑنے کو آمادہ نہیں، جبکہ خود امریکا، برطانیہ اور عالمی ادارے تسلیم کرچکے ہیں کہ عراق سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں مل سکے۔ دو دہائیاں ہوگئی ہیں، ایسے ہتھیار تو نہیں ملنے تھے اور وہ نہیں ملے، لیکن امریکی ہتھیاروں نے جو وحشت آفرینیاں کی ہیں، وہ انسانی یاداشت میں بھی زخم کی صورت میں باقی رہ جائیں گی۔

    مغرب کا دوہرا معیار، انسانیت کا دشمن

    مغرب کا دوہرا معیار، انسانیت کا دشمن

    یعنی وہاں پر اگر ہم نے جنگ اور تباہی سرزد کی ہے تو اس کی وجہ بھی وہ ہیں، ہم نہیں۔ ہم نے تو وہاں دخل اندازی کرکے خود کو بچایا ہے اور وہاں کی عوام پر احسان کیا ہے۔ لہذا وہ جنگ اور بدامنی کے حقدار ہیں، ہم جیسے لوگ نہیں۔

    یورپ کی 77 ویں خانہ جنگی

    یورپ کی 77 ویں خانہ جنگی

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں اس چیز کو اہم انسانی سرمایہ قرار دیا جاتا ہے جو "نظام"، "بین الاقوامی نظام" اور "فخر آمیز عالمی معاہدوں" کے طور پر یورپی حلقوں اور ان کے ذریعے رائج عالمی حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ یورپ میں مختلف طاقتوں کے درمیان خونریز جنگوں، لاکھوں انسانوں کے مارے جانے اور بعض اوقات 8 کروڑ فوجیوں کے قتل عام کے نتیجے میں حاصل ہونے والا سرمایہ ہے۔

    یوکرین پر روس کا حملہ اور عالمی طاقتوں کا کردار

    یوکرین پر روس کا حملہ اور عالمی طاقتوں کا کردار

    یوکرین تباہ ہوچکاہے ۔اس کی تمام تر ذمہ داری ان عالمی طاقتوں پر عاید ہوتی ہے جنہوں نے یوکرین کو جنگ کے لیے اکسایا اور وقت پڑنے پر اسے تنہا چھوڑدیا ۔یوکرین کی موجودہ حالت زار سے ان ممالک کو سبق لینا چاہیے جو عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔

    یوکرائن، امریکی وعدوں پر اعتبار کا انجام

    یوکرائن، امریکی وعدوں پر اعتبار کا انجام

    عجیب بات ہے کہ معرکہ کہیں ہے، بیانات کہیں ہیں اور اسرائیل کے اندر پریشانی چھپائے نہیں چھپتی۔ اسرائیل بظاہر یوکرائن کی موجودہ حکومت کا حامی ہے، اسرئیل کو نیٹو کی سرپرستی حاصل ہے، روس سے بھی اس کے تعلقات ہیں، لیکن یہ روس ہی تو ہے، جس نے شام میں اس کے خواب چکنا چور کر دیئے۔

    اوپر جاؤ