حسان ڈرون طیارہ چالیس منٹ تک مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے میں 70 کلومیٹر تک علاقے کی جاسوسی کرتا رہا اور صہیونی سکیورٹی فورسز کی تمام تر کوشش کے باوجود کامیابی سے صحیح حالت میں لبنان واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ اقدام ایک طرف حزب اللہ لبنان کی عظیم فوجی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف غاصب صہیونی رژیم کے کھوکھلے پن اور مکڑی کے جال جیسی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہے ہی، لیکن اس کا نفسیاتی اثر بہت زیادہ ہے۔ حزب اللہ اور مقاومتی گروہ خطے میں اسرائیل کے حقیقی دشمن ہیں، جو باتوں سے نہیں بلکہ عمل کے ذریعے اسرائیل کے وجود کو چیلنج کرتے ہیں۔
کیا یہ تہذیب ہمارے لئے لائق تقلید ہے جس میں ماں باپ کے لئے گھر میں کوئی جگہ نہ ہو ، جہاں گھر چھوٹے ہو جائیں اور ماں باپ کو اولڈ ہاووس میں چھوڑ کر بچے سوچیں کہ سر کا بوجھ اتر گیا ٹکیا یہ ایسی تہذیب ہے جس کے بارے میں ہم بات تک کرنے کے روادار ہوں ؟
سوال یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ان تمام مشکلات کے درمیان گھرے رہنے کے باوجود جو ہمیں لاحق ہیں ہم کیا کرسکتے ہیں ۔ یہاں پر ہم سب کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنے ماضی پر ایک نظر ڈالیں سب سے پہلے ہمیں اپنی تاریخ سے واقفیت کی ضرورت ہے ہمیں جاننے کی ضرورت ہے ہم نے کیا خدمات کی ہیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جو اپنی تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں۔
"بحرین، اسرائیل کو ایران کے مقابلے میں اپنا اہم اتحادی تصور کرتا ہے اور تل ابیب سے تعلقات بڑھانے کا خواہش مند ہے۔ اس کا یہ جھکاو افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد مزید شدت اختیار کرچکا ہے، کیونکہ اب وہ امریکہ سے اپنی مدد اور حمایت کرنے کے بارے میں مایوس ہوتا جا رہا ہے۔"
پردہ اسلامی تشخص ہے ۔اس تشخص کو ختم کرنے کی منصوبہ سازی کی جارہی ہے ۔کیونکہ فاشسٹ طاقتیں مسلمانوں کو ان کے مذہی کلچر کے ساتھ قبول نہیں کرنا چاہتیں ۔کیونکہ جب کسی قوم کا تشخص ختم ہوجاتاہے تو اس کی حیثیت بھی مشکوک ہو کررہ جاتی ہے ۔
ملک کے بدلتے ہوئے ان حالات میں ہمیں اپنا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں ہم کس قدر ملک کے حالات کے تئیں حساس ہیں اپنی قوم کی تعمیر کو لیکر ہمارے وجود کے اندر ایک امنگ پائی جاتی ہے ۔ اگر ہم ملک و قوم کے تئیں ہمدردی رکھتے ہیں تو یقینا ملک کے سیاسی منظر نامے پر جو کچھ چل رہا ہے اس سے غافل نہیں ہونگے ۔
سعودی بادشاہ کی متعینہ مجلس شوریٰ نے نام نہاد قانون میں ترمیم کرکے عبارت "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" سعودی پرچم سے ہٹانے اور قومی ترانہ تبدیل کرنے کے بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا! صارفین کا شدید رد عمل!
یمن کی قومی نجات حکومت کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ابوظہبی ہوش کے ناخن لے اور علاقے کے دوسرے ممالک کے مفادات کو تسلیم کرے اور علاقائی امن کے منصوبوں کو غنیمت سمجھے