اماراتی حکام کے ساتھ اسرائیلی صدر کی ملاقات میں ویانا مذاکرات اہم موضوعات میں سے ایک ہوں گے، تاہم ان ملاقاتوں کا ان مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ نفتالی بینیٹ نے اس سے قبل یو اے ای میں ایٹمی معاہدے کی بحالی کے مذاکرات کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے حکام سے بات چیت میں مذاکراتی عمل کی مخالفت کی تھی۔
جماعت انصاف و ترقی کے مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کی قربتیں حاصل میں کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں بھی، انہیں اندرون سطح پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کے بےشمار ساتھی انہیں چھوڑ سکتے ہیں اور ترکی کے عوام اور جماعت کے راہنما اور اندر کے وہ لوگ ان پر منافقت کا الزام لگا کر انہیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ سکتے ہیں.
سعودی-اسرائیلی تعلقات کی بحالی واشنگٹن پر ایم بی ایس کے اعتماد اور ایران کے حلیفوں کے حملوں کے مقابلے میں سعودیوں کے تئیں امریکی حمایت کی سطح پر منحصر ہے اور اگر امریکہ اسرائیلی دفاعی سہولیات کے ذریعے سعودیوں کے فضائی دفاعی کمزوریوں کا ازالہ کرے تو یہ سعودی-یہودی تعلقات کی بحالی کا سبب ہوگا۔
اگرچہ ریاض، ابوظہبی اور تل ابیب کی یمن مخالف تکون کی سرگرمیںوں میں اضافے سے یمن کو مادی اور انسانی نقصان پہنچے گا، لیکن یہ یمنیوں کی شکست کا باعث نہیں بنے گا۔
مسلم دنیا کے ممالک اگر اسلامو فوبیا کیخلاف ایک نکتہ پر جمع ہو جائیں تو اس قابل ہوسکتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں مشترکہ کرنسی، مشترکہ پارلیمنٹ اور سرحدوں سے آزاد ہو جائیں۔ ان اقدامات کے نتیجہ میں یقیناً مسئلہ فلسطین بھی منصفانہ انداز میں حل ہو جائیگا اور ساتھ ساتھ کشمیر سمیت مسلم امہ کے دیگر ایسے تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
قصے کا آغاز وہاں سے ہؤا جہاں صہیونی ذرائع نے بولنا شروع کیا کہ نیتن یاہو کا وکیل اٹارنی جنرل کے دفتر کے ساتھ ایک سودے بازی کر رہا ہے اور وہ یہ کہ عدلیہ اس کے خلاف دائر مقدمات اور کیسز کا خاتمہ کرے اور اس کے بدلے نیتن یاہو سیاسی میدان ترک کرے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرے۔
امید ہے کہ یہ خون رایگاں نہیں جائے گا اور اس کے اندر اتنی تاثیر ہوگی کہ جس طرح یہ خون قاسم سلیمانی کے بدن کا جب حصہ تھا تو ظالموں سے لڑ کر مظلوموں کو انکا حق دلا رہا تھا اسی طرح بدن کی قید سے آزاد ہو کر ہر فلسطین و بیت المقدس کو آزاد کرا کے فلسطینیوں کو انکا حق دلائے گا۔
لبنان کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ انصار اللہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا "شبوہ" میں حالیہ کاروائیوں میں صیہونی حکومت براہ راست ملوث تھی یا نہیں، تاکہ ثابت ہو جانے کی صورت میں صیہونی حکومت کو نشانہ بنایا جائے۔
ان دونوں اہداف کے پیش نظر یہ طے پایا کہ پہلے سردار شہید سلیمانی کو راستے سے ہٹایا جائے اسکے بعد دوسرے رہنماوں کو شہید کیا جائے تاکہ مزاحمتی محاذ کی کمر توڑی جا سکے چنانچہ شہید قاسم سلیمانی پر حملہ ہوا تاکہ لوگوں کے دل میں ایک رعب و وحشت بیٹھ جائے اور لوگ سامراج کے خلاف کھڑے ہونے کا خیال دل سے نکال دیں ، اوراسی کے تحت یہ بڑا خطرناک قدم اٹھایا گیا ۔