یقینا سردار شہیدقاسم سلیمانی کی ایک آرزو یہ تھی کہ یہ بیرونی افواج ملک سے باہر اپنی سرزمینوں پر واپس جائیں گرچہ شہید اپنی زندگی میں امریکہ اور دیگر اسکے حلیف فوجوں کی واپسی کو نہ دیکھ سکے اور تمام تر کوششوں کے بعد ایسا کچھ نہ ہوسکا کہ عراقی خود امریکہ و اسکے حلیفوں سے کہیں کہ تم ہماری سرزمین کو چھوڑ کر باہر نکلو۔
ایسا لگتا ہے کہ اماراتی حکمران اس کہاوت کو بھول چکے ہیں کہ "اگر تمہارا گھر شیشے کا ہے تو دوسرے کے گھر پر پتھر نہ پھینکو"۔
شہید قاسم سلیمانی سے وہ لوگ انتقام لیں جنکی سیاست کی تکمیل کے لئے یہ شخصیت ایک بڑی رکاوٹ بن گئی تھی، آپکی جنگی حکمت عملی اور قائدانہ صلاحیتوں کا ہر ایک معترف تھا سخت سے سخت مرحلہ میں آپ اپنی عسکری حکمت عملی سے پاسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
ہر ایک جانتا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کو پورے علاقے میں ایک مسیحا کے طورپر تسلیم کیا جاتا ہے شہید قاسم سلیمانی صرف ایران کے کمانڈر نہیں تھے بلکہ انہوں نے سرحدوں سے ماوراء ہو کر انسانیت، اسلام اور توحید کی حفاظت کی تھی۔
شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد جب ایران نے عراق میں امریکی بیس ''عین الاسد'' پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا تو ہر ایک کو ایسا لگ رہا تھا کہ ہر طرف ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑک جائیں گے، توقع یہ تھی کہ ایران کی جانب سے جوابی کاروائی کے بعد امریکہ بھی جواب دے گا اور یوں خطرناک جنگ کا آغاز ہو جائے گا
محمد بن سلمان ملکی معیشت کو بچانے کیلئے اخلاقی و اسلامی اقدار کو تباہ کر رہا ہے۔ یوں محمد بن سلمان نے اعلانیہ طور پر اسلامی اور شرعی قوانین کیخلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
یمنی افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر دشمن نے ہمارے خلاف جارحیت جاری رکھی اور ہماری سرزمین پر قبضہ جاری رکھا تو امارات کی اقتصادیات اور سرمایہ کاری حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، بینیٹ نے اپنے خط میں صہیونی ریاست کو مستقبل کے حملوں سے نمٹنے کے لئے "سیکیورٹی اور انٹیلی جنس امداد" کی پیشکش کی اور کہا کہ اس نے اپنی ریاست کے سلامتی کے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے ہم منصبوں کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔
صہیونی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ تل ابیب ابوظہبی پر یمنی حملے کے بعد مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی ٹھکانوں پر اسی طرح کے حملے سے ہراساں ہے اور اس حملے کا جائزہ لے رہا ہے۔