اسرائیلی وزیر خارجہ نے امریکی اور سعودی حکام کی طرح گزشتہ روز ابوظہبی کے خلاف صنعا کی کامیاب کاروائی کی شدید مذمت کی۔
اب امریکہ اپنے آپ کو ثالثی کرانے والے ملک کے طور پر پیش نہیں کر سکتا اور نہ ہی خود کو صلح کے پرچم دار کے طور پر پیش کر سکتا ہے جو آپس میں دست بگریباں دو حریفوں کے درمیان امن و امان قائم کرنا چاہتا ہو اس لئے کہ وہ خود لڑائی کا ایک فریق بن چکا ہے۔
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو درپیش ایک اور بحران کسی بھی وسیع جنگ میں اس کی فوج کی کمزوری اور ناتوانی ہے۔ اسرائیل میں انجام پانے والی مختلف تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ حریدی انتہاپسند یہودی اور اتھوپیا سے آئے مہاجرین ملٹری سروس سے بھاگ جانے کا رجحان رکھتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ سے تھک چکا ہو لیکن بیجنگ نے اپنا کام ابھی شروع کیا ہے۔
مسلمانوں نے جتنی سیکولر کہے جانے والی پارٹیوں پر بھروسہ کیا اس کے نتائج کیا ہوئے ؟ دہلی میں پہلی بار کیجریوال کو اقتدار کی کرسی تک پہونچانے میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا ،مگر کیجریوال بھی زعفرانی سیاست کا ایک مہرہ ثابت ہوئے۔ دہلی فسادات کے موقع پر عام آدمی پارٹی کی دوغلی سیاست نے کیجریوال کے چہرہ پر پڑی ہوئی سیکولرازم کی نقاب کو الٹ دیا۔
صہیونی کابینہ نے واضح طور پر ایران کے خلاف جنگ کیلئے بجٹ مخصوص کرنے کا اعلان کیا ہے اور حتی اس جنگ کیلئے ضروری دستورات بھی وضع کئے جا چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صہیونی حکام کی یہ دھمکیاں کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں؟ اور کیا اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کی توانائی اور جرات رکھتا بھی ہے یا نہیں؟
حزب اللہ اور فلسطینی مقاومت پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کے بعد، "اسرائیل کی نسلی سلامتی" کو "عربوں کی قومی سلامتی" کا ہمزاد قرار دینا"، تمام تر عواقب کے باوجود، دونوں فریقوں کے درمیان اتحاد کا اعلان کرنے اور اس اتحاد کو خفیہ مرحلے سے نکال کر اعلانیہ مرحلے میں لے جانے کے لئے ضروری تمہید فراہم کرتا ہے۔
صیہونی حکومت 2006 ، خاص طور پر لبنان پر حملے کے بعد سے اپنے داخلی محاذ کو مضبوط کرنے اور اسے مستقبل کی ممکنہ جنگوں کے لیے تیار کرنے کے بحران کا شکار ہے۔
آل سعود رژیم کی جانب سے لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ اور نفسیاتی جنگ سمجھ سے باہر نہیں ہے اور ایک فطری عمل ہے۔ چونکہ اسلامی مزاحمت تمام ایسی رژیموں کے حقیقی چہرے آشکار کر کے ان کی رسوائی کا باعث بنی ہے جو کسی نہ کسی سطح پر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔