یہ زوال کی طرف رواں دواں، راندہ درگاہ، غاصب صہیونی ریاست کے زوال پذیر اور نامناسب وزیر اعظم جو ایک نامناسب وقت میں اس ریاست کی وزارت عظمی تک پہنچا ہؤا ہے، کا عجیب و غریب بیان ہے۔ اس نے یہ الفاظ ایران پر لگی امریکی پابندیاں ہٹانے کے لئے ہونے والے ویانا مذاکرات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ادا کئے ہیں۔
بعض لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا بن سلمان کے یہ حالیہ اقدامات اس بات کا سبب نہیں بنیں گے کہ ولی عہد کے خلاف ایک خاص گروہ وجود میں آ جائے یا کوئی تحریک جنم لے لے ، اس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بہت ہی کم تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنکا ماننا ہے کہ دینی رہنما اور علماء ہمیشہ خاموش رہیں گے بعض یہ پوچھ رہے ہیں کیا ممکن ہے کہ ایران کی طرح کوئی خمینی اسی طرح سعودی عرب میں اٹھ کھڑا ہو جس طرح شاہ کے مقابل ایران میں امام خمینی اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔
امارات بالکل انہیں طریقوں اور حربوں کو آزما رہا ہے جسے صہیونی رجیم نے فلسطین پر قبضے کے لئے استعمال کیا تھا اور اماراتی حکومت وہیں پیر رکھ رہی ہے جہاں اسرائیل نے رکھتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کیا تھا۔
نفتالی بینیٹ نے ٹائمز میگزین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: "ایران یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت کے اعلی ترین مرحلے پر پہنچ گیا ہے۔ ایران 30 برسوں سے ہمارے آس پاس آ کر تعینات ہو چکا ہے اور وہ ہماری توجہات کو ہٹانا اور ہمیں بوکھلاہٹ سے دوچار کرنا چاہتا ہے"۔
سابق صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا: "ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم [اسرائیلی] کمزور ہیں اسی لئے مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اسرائیل کی ترقی کے بارے میں شیخیاں بگھارتا ہے؛ وہ جدید زمانے کے سب سے بڑے چوروں میں سے ایک ہے۔ ایران تمہاری [یعنی نفتالی کی] کمزوریوں سے واقف ہے"۔
آج ہم صہیونیوں کو چیختا چلاتا دیکھ رہے ہیں مگر چیخنا چلانا ہمیشہ طاقت کے اظہار کی علامت نہیں ہے؛ کونسی چلاہٹ ڈوبتے ہوئے شخص کی چیخ و پکار سے زیادہ روح فرسا ہوسکتی ہے؟ لیکن کیا کوئی اس چیخ و پکار کو ہمت و جرات کی علامت سمجھے گا؟
سعودی سیاسی مفکرین نے اپنی ساری توجہ کو ان اداروں اور تنظیموں سے مقابلہ میں صرف کر رکھا ہے جو اسرائیل کے مخالف ہیں ، جیسے حزب اللہ ، حماس، اور انصار اللہ ، اور وہ تنظیمیں جو ایران کے شام و لبنان اور عراق میں کردار ادا کرنے کا سبب ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ ایران پر حقیقی دباؤ نہیں ڈال سکی ہے اور اسی مسئلے نے ویانا مذاکرات میں امریکہ کو تعطل اور رکاوٹوں سے دوچار کیا ہے۔
جنرل سلیمانی پر حملے کا فیصلہ امریکی خارجہ پالیسی کے ان فیصلوں میں سے ایک ہے جس کے انجام اور عواقب کو کسی قسم کی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ امریکی حکام پر لازم ہے کہ اس سادہ لوحانہ سوچ کو ترک کر دینا چاہئے کہ اگر کوئی ان کے مفادات کے خلاف ہے تو اسے مار دینا چاہئے۔