ملک میں جس طرح سے ہردن فرقہ وارانہ عداوتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں، اس سے اس بات کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ عنقریب کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان میں ایک بار پھر گجرات کی تاریخ کو دہرا دیا جائے ایک بار پھر حیوانیت قہقے لگاتی نظر آئے، انسانیت ایک بار پھر سسکیاں لیتی نظر آئے۔
جب تک ایران کا ایٹمی پروگرام جاری رہے گا، اس ملک کو مشترکہ امریکی-صہیونی دھمکیاں جاری رہیں گی/ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے دورہ تل ابیب کا مقصد فریقین کے درمیان ہم آہنگی ہے / دریں اثنا صہیونی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ویانا مذاکرات پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔
ہری دوار اور رائے پور دھرم سنسد میں بابائے قوم مہاتما گاندھی اور ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے خلاف بھی تقریریں کی گئیں ۔یتی نر سنگھا نند سرسوتی اور اس کے نظریاتی حامیوں نے تو مہاتما گاندھی جی کو ملک دشمن تک قرار دیدیا۔انہوں نے ناتھو رام گوڈسے کو وطن پرست اور سچا ہندو بتاتے ہوئے گاندھی جی کے قتل پر اسے خراج عقیدت پیش کیا۔
صورت احوال یہ کہ حال ہی میں غاصب صہیونی ریاست کی طرف سے کچھ یہودی ربیوں نے انقرہ کے صدارتی محل میں ترک صدر رجب طیب اردگان سے بات چیت کی جس پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔
ہمیں مستقبل قریب میں خطے کی سطح پر دہشت گردانہ اقدامات، تخریب کاری اور بغاوتوں میں بڑھاوے کا منتظر رہنا چاہئے۔ اسی طرح دیگر پراسرار اقدامات جو برطانیہ کی خاص مہارتوں میں شامل ہیں۔ خطے کے مختلف ممالک میں وسیع تعداد میں برطانیہ کے تربیت یافتہ ایجنٹس اور جاسوس سرگرم عمل ہو چکے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں کے نتائج ظاہر ہوتے رہے ہیں گے۔
امریکہ کا سالانہ فوجی بجٹ بھی ۶۰۰ ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اس کے بیرون ملک ۱۰۰۰ فوجی اڈے ہیں، چنانچہ وہ اپنی فوجی مشین کی افادیت پر بہت شادماں اور مطمئن ہے، لیکن اس فوجی مشین کی نااہلیت جلدی یا بدیر ثابت ہوجائے گی اور امریکہ کے بیرونی حامی اور اندرونی غفلت زدہ لوگ جان لیں گے کہ یہ سب امریکہ کی تشہیری مہم تھی۔
صیہونیوں اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے ان دنوں فلسطینیوں پر اس قدر شدید مظالم ڈھانے کی ایک اہم وجہ وہ خوف ہے، جو فلسطینیوں کی بغاوت اور فعالیت سے ان کے اندر پیدا ہوا ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ سعودی عرب میں بادشاہت کا تاج ایک ایسے شخص نے زبردستی اپنے سر سجا لیا ہے، جو نہ صرف آل سعود بلکہ اسلام کیلئے بھی خطرہ ہے۔ محمد بن سلمان کے یہ اقدامات اس جانب اشارہ ہیں کہ سعودی عرب میں بہت جلد انقلاب اٹھنے کو ہے، جو اس سارے منظر نامے کو ملیا میٹ کرکے سعودی عرب کو دوبارہ اس کا اسلامی تشخص لوٹا دے گا اور وہ دن بہت قریب ہے، کعبے میں بہت جلد مجاہد کی اذان آنیوالی ہے۔
انصاف کا تقاضہ یہ کہتا ہے کہ جو بھی یہودی صہیونی فلسطین میں باہر سے آکر قابض ہوئے ہیں، وہ سب اپنے وطن کو جائیں، جن فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن سے جبری جلاوطن کیا گیا ہے، ان کو واپس لایا جائے۔ افسوس ہے ان عرب حکمرانوں پر کہ جو خود بھی دھوکہ میں ہیں اور فلسطینی عوام کو بھی دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔