لگتا ہے کہ بینٹ کے دورہ امارات کا اقتصادی پہلو بہت نمایاں ہے اور تل ابیب بھی یہی کچھ چاہتا ہے۔ لیکن دو طرفہ فوجی اتحاد کے بارے میں مختصر سی بات یہ ہے کہ جب سے امریکہ نے اپنا ہاتھ مشرق وسطی سے کھینچ لیا ہے، امارات اور اسرائیل کے درمیان فوجی معاہدے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اور یہ وہی بات ہے جو اسرائیلی سیکورٹی تجزیہ کار یوسی ملیمین (Yossi Milliman) نے کہی تھی۔
کس قدر ڈھٹائی کی بات ہے کہ ایک طرف جہاں بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایسی بسیتاں بسائی جاتی ہیں جن کے بارے میں خود امریکہ جیسے حلیف ممالک کی کمپنیاں خود کو مطمئن نہیں کر پاتیں اور جب وہ عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہیں اور تو انہیں قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی جاتی ہے ۔
حیرت ہے، یوسی کوہن یہ بات اس انداز میں کر رہا ہے کہ جیسے وہ گن لے کر ایرانی سائنسدانوں کے سر پر کھڑا ہے۔ اسرائیلی ایسے جھوٹے اور بے بنیاد بیانات دے کر نفسیاتی طور پر ایران کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
اسرائیلی حکام کے یو اے ای کے دورے کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب درحقیقت ان سفارتی ملاقاتوں سے اسرائیل سے اپنے باقاعدہ تعلقات کے دروازے کھول رہا ہے، کیونکہ اسرائیلی حکام کو لے جانے والا طیارہ سعودی عرب کے آسمانوں سے ہوتا ہوا ابوظہبی گیا ہے۔
صہیونی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے تین سابقہ صدور کے دور میں ایران کے خلاف صرف اقتصادی حوالے سے وسیع پابندیوں کا ہتھیار استعمال کیا گیا ہے اور اب ہتھیار اور ہمہ جہت پابندیاں بھی پہلے کی طرح کے اثرات نہیں رکھتیں اور یہ امریکی ہتھیار فرسودہ اور ایران کو جوہری پیشرفت سے روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔
فلسطین میں دو ریاستی حل پر امریکی تاکید بھی نئی امریکی حکومت کے سامنے اسرائیل کے لئے متعدد چیلنجوں کا سبب بنی ہے۔ اسرائیل کسی وقت بھی فلسطینیوں کے مسئلے کو نظر انداز، اور اس کا انکار نہیں کرسکتا کیونکہ فلسطینی بھی ایک حقیقت ہیں اور ان کی جدوجہد بھی ایک علاقائی حقیقت ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات صیہونی حکومت کے خلاف مزید چھے قراردادیں منظور کی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قراردادیں کیوں کارآمد ثابت نہیں ہوتیں؟
صہیونی ریاست کے حکام امریکی حکام کے ساتھ کئی ملاقاتوں کے دوران - ویانا مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں - متبادل منصوبہ متعین کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں فوجی مداخلت کی امریکیوں کی سنجیدہ اور تزویراتی عدم دلچسپی اور خطے میں فوجی موجودگی کو کم کرنے کے امریکی عزم کی وجہ سے اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
عظیم تر مشرق وسطیٰ کے منصوبے میں طے یہ تھا کہ عرب ریاستوں، ترکی، ایران، پاکستان، قفقاز کے مسلم ممالک اور اسرائیلی ریاست کو ایک آزاد معاشی نظام پر مبنی بلاک میں تبدیل کیا جائے اور اس کا مرکزی کردار اسرائیل کے ہاتھ میں ہو۔