اسرائیل نے مغربی کنارے میں 20 ہزار فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا

غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوجی نسل کشی جاری رکھنے کے لیے مغربی کنارے کے کیمپوں میں گئے جہاں پر صہیونی حملوں کے بعد 20 ہزار فلسطینی بے گھر ہو گئے تھے۔

فاران: غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوجی نسل کشی جاری رکھنے کے لیے مغربی کنارے کے کیمپوں میں گئے جہاں پر صہیونی حملوں کے بعد 20 ہزار فلسطینی بے گھر ہو گئے تھے۔
فارس نیوز ایجنسی انٹرنیشنل گروپ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنین کیمپ پر مسلسل 42ویں روز بھی حملے جاری ہیں۔ طولکرم کیمپ پر صیہونی حملہ 36 روز سے جاری ہے اور نور شمس کیمپ پر حملہ 23 ​​روز سے جاری ہے۔
خبر رساں ذرائع نے بتایا ہے کہ صہیونی فوج ان کیمپوں میں فوجی سازوسامان بھیج رہی ہے۔ جنین کیمپ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعے اس علاقے کے 90 فیصد باشندوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوجیوں نے آج صبح بھی بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا، درجنوں گھروں پر چھاپے مارے اور ان میں سے کئی کو مسمار کر دیا۔ آج صبح مغربی سلفیت میں اسرائیلی فوجیوں کے حملوں میں ایک فلسطینی بچہ زخمی ہوگیا۔
جنین کیمپ پر صیہونی حملوں کے دوران اب تک 27 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ صہیونی فوج نے جنین کیمپ کے مشرقی علاقے میں کئی مقامات پر بکتر بند گاڑیوں سے حملہ کیا۔
صہیونیوں نے “بلاتھی” کیمپ کے مکینوں کے خلاف زہریلی گیس کا بھی استعمال کیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے جنین کیمپ کے داخلی راستے پر آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔
اس وقت صیہونی فوجیوں نے جنین کیمپ کے کچھ حصوں سے انخلاء کر لیا ہے اور علاقے میں بہت سے مکانات کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلیوں نے جنین کیمپ کے تمام داخلی راستوں کو پشتے لگا کر بند کر دیا ہے اور علاقے میں موجود شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوجیوں نے آج جنین کیمپ کے ارد گرد وسیع پیمانے پر فوجی سازوسامان روانہ کیا۔ آج تک صیہونی فوج نے تقریباً 20,000 فلسطینی شہریوں کو اس کیمپ سے نکلنے پر مجبور کیا ہے اور 120 گھروں کو مکمل طور پر تباہ اور درجنوں کو جزوی طور پر تباہ کر دیا ہے۔