الاقصٰی طوفان اور اس سے جڑی طوفانی لہریں
فاران: ”الاقصٰی طوفان“ کے حوالے سے غیر جانبدار خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسراٸیل کے خلاف اس طوفانی آپریشن کی ایک بڑی خصوصیت اس آپریشن سے جڑی ہوٸی مختلف جہادی تنظیموں کی کارواٸیاں اور ان کے مابین باہمی اشتراک عمل ہے۔ ان تنظیموں نے ثابت کیا ہے کہ ان کی فلسطینیوں کی حمایت محض زبانی جمع خرچ نہیں ہے بلکہ ایک میدانی حقیقت ہے۔ اسراٸیل کے خلاف موجودہ جنگ میں ان گروہوں نے اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف جس طرح باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا، بعض مبصرین نے اس جنگ کا موازنہ اکتوبر 1973ء میں لڑی جانے والی عرب اسراٸیل جنگ سے کیا ہے، جو 50 سال قبل لڑی گئی تھی۔
اگرچہ اس جنگ میں عرب افواج صیہونی دشمنوں کے خلاف مقابلہ کرنے کے لیے جمع ہوٸیں، لیکن ان کا اتحاد اُس اتحاد سے بالکل مختلف ہے، جس کا مشاہدہ ہم آج ان مزاحمتی قوتوں کے مابین کر رہے ہیں، جو اپنے مشترکہ دشمن کو ناکوں چنے چبا رہی ہیں۔ 1973ء کی جنگ میں شام اور مصر کی فوجیں ایک مشترکہ حکمت عملی اور نظام الاوقات پر متفق ہونے کے بعد میدان جنگ میں وارد ہوٸی تھیں، لیکن 7 اکتوبر 2023ء کو طوفان الاقصٰی کے عنوان سے شروع ہونے والا آپریشن مکمل طور پر محض فلسطینی فیصلے کی عملی شکل تھی۔ اس آپریشن کی ٹاٸمنگ، اس کا آپریشنل پلان اور جنگی کارواٸیوں کو منظم کرنے کا طریقہ، سب کچھ فلسطینی مزاحمت کاروں کا تشکیل دیا ہوا تھا۔
تاہم اس کے باوجود لبنان، پھر عراق اور یمن کے مزاحمتی گروہوں نے اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اپنی کسی قسم کہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا، جیسا کہ ان گروہوں کے قاٸدین اس بات کا اس سے قبل اظہار کرچکے ہیں۔ اکتوبر 1973ء اور اکتوبر 2023ء کی جنگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ 73 کی جنگ کے آغاز میں شام اور مصر میں پاٸی جانے والی ہم آھنگی کے باوجود مصر نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا، جس کی وجہ سے شام، اسراٸیل اور امریکہ کے مقابلے میں بالکل تنہا رہ گیا۔
عربوں کی یہ شکست مستقبل میں فلسطینیوں کو مقابلے کے میدان سے کھینچ کر انہیں اسراٸیل کے ساتھ مذاکرات کی میز تک لے آٸی۔ حالانکہ اس وقت بہت سوں کا خیال تھا کہ مصر کی طاقتور فوج شام سے مل کر اسراٸیل کو شکست دے سکتی ہے۔ لیکن اس امکان کے ہوتے ہوئے بھی یہ عرب افواج میدان جنگ میں ٹھہر نہ سکیں۔ تاہم گشتہ اکتوبر میں جب حماس نے اچانک اسراٸیل کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا محاذ کھول دیا تو علاقے کے مزاحمتی گروہوں نے فوری طور پر حماس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا اور آج تک ان کے ارادوں میں معمولی سی لغزش کے آثار بھی نہیں ہیں۔
مصر کے صدر انور سادات نے اسراٸیل کے ساتھ جنگ بندی کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ ”ہم اسراٸیل کے ساتھ تو جنگ لڑ سکتے ہیں، لیکن امریکہ سے نہیں۔“ لیکن آج ایسے میں جبکہ امریکہ اسراٸیل کو ہر قسم کا اسلحہ دے رہا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی بحری بیڑوں کو بھی حرکت میں لے آیا ہے، مجاہدین اس کی دھمکیوں کو گیدڑ بھبھکیاں سمجھ رہے ہیں اور ”آبنائے ہرمز“ اور ”باب المندب“ میں ہروقت ان پر اپنے خوف کا سایہ کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ جو دوسروں کو ڈبونے چلا تھا، خود سمندر کی لہروں کے چنگل میں آچکا ہے۔ اپنا ایک کہا ہوا شعر شاید اس موقع کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ:
خود ایک روز سمندر نگل گیا تھا اسے
وہ اک بھنور جو کبھی پانیوں میں رہتا تھا













تبصرہ کریں