الشفاء ہسپتال ذبح خانہ بنا دیا گیا، فلسطینیوں کا قتل عام روکا جائے: ہیومن رائٹس

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر‘ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس اور اس کے گردونواح میں "اسرائیلی" قابض فوج کی طرف سے جاری فلسطینیوں کا قتل عام کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔

فاران: انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر‘ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس اور اس کے گردونواح میں “اسرائیلی” قابض فوج کی طرف سے جاری فلسطینیوں کا قتل عام کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق دو روز میں الشفاء ہسپتال کے اندر اور اطراف میں اسرائیلی فوج کی بربریت میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں سوچےسمجھے منصوبے کے تحت ماورائے عدالت شہید کیا جا رہا ہے۔

بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یورو میڈیٹیرینین آبزرویٹری نے رہائی پانے والے قیدیوں اور عینی شاہدین کی شہادتوں کے حوالے سے بتایا کہ قابض فوج نے غزہ شہر میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر بے گھر فلسطینی شہریوں کو اپنی جاری فوجی کارروائی کے حصے کے طور پر کھلے میدان میں نکالا اور اس کے بعد ان پر گولیاں چلائیں۔

ایک شہری نے اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے یورو میڈ کو بتایا کہ رہائی سے قبل اسے نو گھنٹے سے زائد عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔ ان کے کئی گرفتار دوسرے ساتھیوں کو ہسپتال کے مردہ خانے لے جایا گیا جہاں انہیں گولیاں مار کر شہیدکردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ “فوجیوں نے مجھے حراست میں لیا اور ہسپتال کے صحن میں ہتھکڑیاں لگا کرنو گھنٹے سے زیادہ وقت تک برہنہ رکھا۔ اس دوران میں نے تقریباً چار بار دیکھا کہ فوجی قیدیوں کے گروپوں کو لے کر جا رہے ہیں۔ کم از کم تین افراد اور زیادہ سے زیادہ دس افراد پر مشتمل فلسطینیوں کوہسپتال کے مردہ خانے لے جایا جاتا جہاں پہلے لاشیں رکھی گئی تھیں۔ وہاں انہیں گولیاں ماری جاتیں اور اسرائیلی فوجی اس کے بعد واپس آجاتے۔

ایک اورعینی شاہد جو آخری گھنٹوں میں الشفا میڈیکل کمپلیکس سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے نے یورو-میڈیٹیرینین ٹیم کو بتایا کہ اس نے اسرائیلی فورسز کو 8 سے 10 فلسطینی شہریوں کو الشفا کمپلیکس کے مردہ خانے میں لے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بعد انہیں شدید فائرنگ کی آوازیں آئیں اور اسرائیلی فوجی واپس آگئے مگر جنہیں ساتھ اندر لے جایا گیا تھا انہیں شہید کردیا گیا تھا۔

یورو میڈیٹرینین آبزرویٹری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان شہریوں کو سر عام موت کےگھاٹ اتارا گیا۔ اس کی فیلڈ ٹیم نے جو معلومات جمع کیں ان سے پتا چلتا ہے کہ الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر اور اس کے ارد گرد 100 فلسطینی اسرائیلی فورسز کی گولیوں سے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب مارے گئے۔

یورو میڈ نے اشارہ دیا کہ اسرائیلی فوج نے الشفا میڈیکل کمپلیکس میں جاری فوجی آپریشن کے دوران 90 افراد کو شہید کرنے کا اعتراف کیا۔

انہوں نے اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک بین الاقوامی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جس میں شہریوں کا قتل عام اور انہیں سر عام گولیاں مارنا  جیسے ہولناک جرائم شامل ہیں۔