اہل غزہ کی مظلومیت اور استقامت کے اثرات

عالمی سطح پر اہل غزہ نے جو اثرات ڈالے ہیں وہ دو پہلووں پر مشتمل ہیں۔ ایک پہلو اہل غزہ کی عظیم استقامت اور پائیداری پر مبنی ہے جس نے دنیا بھر کے انسانوں کو "مغربی اقدار" کی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔

فاران: اس وقت کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔۔ میں عام انداز میں زندگی نہیں گزار سکتی۔” یہ ایک جوان امریکی خاتون کی بات ہے جو 17 اکتوبر کے دن واشنگٹن میں کانگریس کی عمارت کے سامنے فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہرے میں شریک تھی۔ اس نے یہ بات ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہی کہ آپ اس وقت اپنا کام چھوڑ کر یہاں کیوں آئی ہیں جبکہ یہاں غزہ کے حق میں مظاہرے کے دوران گرفتار ہو جانے یا نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خطرہ بھی پایا جاتا ہے؟ ان دنوں یورپی اور امریکی شہروں میں چاہے دن کے وقت چاہے رات کے وقت یہ جملے بہت سننے کو ملتے ہیں کہ “میں گھر نہیں بیٹھ سکتا تھا، ہم پوری رات یہاں رہے تاکہ فلسطینی بچوں کی حمایت کر سکیں کیونکہ کچھ نہ کہنا اور کچھ نہ کرنا ظلم میں شریک ہونے کے برابر ہے۔”

مغربی دنیا کے اکثر ممالک میں مظلوم فلسطینی قوم کے حق میں عوام کی بے مثال حمایت کا اظہار ایک طرف قابل دید اور فخرآمیز واقعہ ہے جبکہ دوسری طرف کچھ حد تک پیچیدہ بھی ہے اور اسے کھولنے کی ضرورت ہے۔ یہ پیچیدگی اس وقت مزید کھل کر سامنے آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یورپی اور امریکی عوام کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کی فضائی جارحیت اور نسل کشی کا نشانہ بننے والی مشرق وسطی کی مسلمان قوم کے حق میں عظیم پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ایسے خطے میں ہو رہے ہیں جہاں اس قسم کے مظاہروں کا کوئی سیاسی، فکری، تہذیبی اور میڈیا پیش خیمہ نہیں پایا جاتا۔ امریکہ میں عام طور پر ایک شخص ایک دن میں سوشل میڈیا پر 4 ہزار اشتہارات سے روبرو ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر اشتہارات مادہ پرستانہ سوچ کی بنیاد پر اسے خرچ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

2021ء میں امریکہ کی بڑی تجارتی کمپنیوں نے سالانہ 1.6 ارب ڈالر صرف بچوں اور جوانوں کیلئے ایڈورٹائزمنٹ پر خرچ کئے تھے تاکہ انہیں مادہ پرستی اور فضول خرچی والی سوچ کے تحت پروان چڑھا کر اپنے مفادات کو یقینی بنا سکیں۔ لبرل سرمایہ دارانہ طرز تفکر کے حامل ملک امریکہ میں فردیت اور فضول خرچی پر مبنی طرز زندگی اس قدر غالب اور پرانی ہے کہ آسٹریا کا مشہور موسیقی دان آرنلڈ شوینبرگ بھی اسے دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ “ایک اشتہار ہے جس میں ایک شخص اپنی گاڑی سے بچے کو ٹکر مار دیتا ہے۔ اس کے بعد بچے کی لاش کے سامنے انتہائی غمگین انداز میں بیٹھا ہے لیکن اس کے غمگین ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ سوچ رہا ہے خدایا، میں نے یہ کیا کر دیا؟ بلکہ تصویر کے نیچے یہ جملہ لکھا ہے: سوری، غمگین ہونے کیلئے بہت دیر ہو گئی ہے۔ اپنی انشورنس کا کنٹریکٹ وقت پر انجام دیں۔”

اہل غزہ کی پکار میں کیا چیز پوشیدہ ہے جس نے ہزاروں کلومیٹر دور مغربی ذرائع ابلاغ اور ہالیوڈ کے زہریلے اور جھوٹے پروپیگنڈے کا اثر زائل کر دیا اور غزہ میں شہید ہونے والے بچے مغربی عوام کی توجہ کا مرکز بن گئے جبکہ فلسطینی بچے نہ تو بیٹ مین ہیں اور نہ ہی باربی ڈال ہیں؟ اس سوال کا جواب پانے غزہ کے واقعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ غزہ دنیا کا گنجان آباد ترین علاقہ ہے جو گذشتہ تقریباً دو ماہ سے صیہونی بربریت کا شکار ہے۔ غاصب صیہونی رژیم اب تک غزہ پر اتنا بارودی مواد انڈیل چکی ہے جس کی طاقت ہیروشیما پر گرنے والے ایٹم بم سے بھی زیادہ ہے۔ اسپتالوں میں بجلی کٹ جانے کے باعث آئی سی یو میں پڑے مریض اور نوزاد بچے دم توڑ چکے ہیں۔ 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد اب تک ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر اہل غزہ نے جو اثرات ڈالے ہیں وہ دو پہلووں پر مشتمل ہیں۔ ایک پہلو اہل غزہ کی عظیم استقامت اور پائیداری پر مبنی ہے جس نے دنیا بھر کے انسانوں کو “مغربی اقدار” کی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔ مغرب گذشتہ کئی صدیوں سے انسانی حقوق، بچوں کے حقوق، خواتین کے حقوق وغیرہ جیسے خوبصورت نعروں سے دنیا بھر میں اپنا سکہ رائج کرنے میں مصروف ہے۔ مغربی حکومتیں دنیا والوں کو انسانی حقوق کا سبق پڑھاتے نہیں تھکتیں اور خود کو انسانی حقوق کا علمبردار ظاہر کرتی آئی ہیں۔ آج اہل غزہ کی مظلومیت ان مغربی دعووں اور مغرب کی جھوٹی اقدار کا قبرستان بن چکی ہے۔ دوسرا پہلو غاصب صیہونی رژیم کے خلاف اہل غزہ کی بے مثال مزاحمت پر استوار ہے جس کی روشنی میں انہوں نے گذشتہ دو ماہ کے دوران ایسے مناظر پیش کئے ہیں جس کا نتیجہ مغرب کی لبرل سرمایہ دارانہ اور مادہ پرستانہ سوچ کی موت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

غزہ میں سامنے آنے والے مناظر شجاعت، صبر، تمام تر مادی ضروریات سے ماوراء ہو کر اپنے وقار اور عزت نفس کی حفاظت اور روحانی اقدار پر مشتمل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک باپ ملبے کے نیچے سے اپنے شہید فرزند کا جسد خاکی نکال کر خداوند متعال کی حمد و ثنا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یا غزہ کے اس زخمی نوجوان کا منظر جو بے ہوش یا سن کئے بغیر سرجری کے دوران آیات قرآن کی تلاوت میں مصروف ہے۔ اہل غزہ کی مزاحمت اور استقامت نے اتنے خوبصورت مناظر پیش کئے ہیں کہ مغربی عوام کے دل موہ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ پر جاری جارحیت کے دوران مغرب میں فلسطین کے غیر مسلم حامیوں میں اسلام کے بارے میں تحقیق اور قرآن کریم کی تلاوت کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔