ایک دن یہ پوری دنیا کا نعرہ ہوگا، علی (علیہ السلام)

ایڈیٹر انچیف روزنامہ کیہان حسین شریعتمداری نے لکھا: امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) فرمایا کرتے تھے: "غدیر اُس زمانے تک محدود نہیں ہے، غدیر کو تمام زمانوں میں ہونا چاہئے، اور جو روش حضرت امیر (علیہ السلام) نے اپنی حکومت میں اپنائی ہے، اسے اقوام اور حکام کی روش ہونا چاہئے"۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: روزنامہ کیہان کے ایڈیٹر انچیف روزنامہ کیہان نے لکھا: اپنی یادداشت بعنوان “ایک دن یہ پوری دنیا کا نعرہ ہوگا: علی (علیہ السلام)” میں لکھا:
1۔ مجھے نہیں معلوم یہ کلام کس کا ہے لیکن حکمت آمیز ہے: “غدیر عوام الناس کی کربلا ہے اور کربلا طبقہ خواص کی غدیر”؛ غدیر میں باوجود اس کے، کہ لوگوں نے بیعت کی مگر عہد توڑ دیا اور “جفا” کی، کربلا میں اگرچہ بیعت اٹھائی گئی تھی لیکن پسپا نہیں ہوئے، اور “وفا” کی…
آج مگر یہ جملہ مکمل نہیں لگتا اور اس کا ایک تسلسل بھی ہے جو کہ ناگفتہ رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کربلا اور غدیر کا سنگم ہے یہاں کربلا اور غدیر کا اتصال و اجتماع ہؤا اور ایران کے لوگوں نے – غدیر یا کربلا میں حاضر ہوئے بغیر – غدیر کے بیعت شکنوں اور کربلا کے بیعت گریزوں کو بہم جوڑ دیا اور اس عہد کو – جو “روز الست” اپنے رب کے ساتھ منعقد کر چکے تھے، “أَرِنِي” (دکھا دے مجھے) کا نعرہ لگاتے ہوئے “میقات” () میں لے گئے۔ پرچم ولایت کو، جو غدیر سے بے رخی کرکے زمین پر رہنے دیا گیا تھا، لہرا دیا، اور کربلا میں لُٹے ہوئے اسلام کو دوبارہ قائم و دائم کیا اور اسی بنا پر امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) فرمایا کرتے تھے: “میں پوری جرأت کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ عصر حاضر میں ملت ایران اور کروڑوں ایرانی عوام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے عہد کے اہلیان حجاز اور امیرالمؤمنین اور حسن بن علی اور حسین بن علی (صلوات اللہ علیہم) کے زمانے کے اہلیان کوفہ و عراق سے بہتر ہیں”۔
2۔ ان دنوں پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) حَجَّۃُ الوداع سے واپسی کے وقت “غدیر خُم” کے نام سے مشہور، مقام پر پہنچے، جہاں سے مصری، مدنی، عراقی اور شامی حجاج ایک دوسرے سے الگ ہوکر اپنے اپنے مواطن کی طرف عازم ہوجایا کرتے تھے۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) اچانک رک گئے اور آگے جانے والوں کو پیغام بھجوایا کہ واپس آئیں، حاضرین کو روک لیا اور سب کو رکنے کا فرمان دیا تاکہ پیچھے رہنے والے بھی آن پہنچیں۔ ایک تقدیر ساز واقعے کی آمد تھی۔ خدائے تبارک و تعالیٰ نے ایک پیغام کے ابلاغ کی خبر دی تھی اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے خطاب فرمایا تھا کہ: “يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ؛ اے میرے رسول! پہنچا دیجئے جو کچھ اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو گویا کہ آپ نے تبلیغ رسالت کا کام کیا ہی نہیں ہے۔ (سورہ مائدہ، آیت67)۔
سوال یہ ہے کہ یہ پیغام کیا تھا کہ جس کے عدم ابلاغ کی صورت میں دین خدا مکمل نہ تھا؟ ۔۔۔ حجاج کرام کی تعداد بھی – منقولہ روایات کے مطابق – ایک لاکھ بیس ہزار سے بھی زیادہ تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اونٹوں کے پالانوں کا منبر تیار کروایا تھا، اور آپ اس پرکھڑے ہوگئے، جبکہ آپ نے علی (علیہ السلام) کا ہاتھ اٹھایا تھا، انہیں اپنے بعد وصی کے طور پر حاضرین سے متعارف کرایا اور فرمایا:
“مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِیٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ …؛ جس کا میں مولا اور فرمانروا ہوں علی اس کے مولا اور فرمانروا ہیں، اے خدا! تو دوست رکھے اسے جو انہیں دوست رکھے اور دشمن رکھے اس کو جو ان سے دشمنی کرے”۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس سے پہلے بھی دسiوں بار علی (علیہ السلام) کو امام اور اپنے جانشین کے طور پر متعارف فرمایا تھا۔
3۔ یہ ماجرا بہت ہی مسلّمہ اور سب کے لئے قابل فہم تھا۔ اسلام کے نفاذ کے لئے امام اور پیشوا کی ضرورت ہے۔ ائمۂ طاہرین (علیہم السلام) – جنہیں قرآن نے “َأُولُوا الْأَمْرِ” کا عنوان عطا کیا ہے – کو معصوم اور گناہوں سے مُنَزَّہ ہونا چاہئے، کیونکہ ان کی پیروی اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ؛
اے اہل ایمان! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اور ان کی جو تم میں حکمرانی کے مالک (اور حقدار) ہیں”۔ (سورہ نساء، آیت 59)
دوسری طرف سے خدائے سبحان نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور بھونڈے اور غیر شائستہ اعمال کا حکم نہیں دیتا۔ چنانچہ قرآن کی نگاہ میں واضح طور پر، ذرہ برابر شک و تردد کے بغیر، دیکھا جا سکتا ہے کہ: اولاً امت کو “امام” کی ضرورت ہے اور ثانیاً: امام کو “معصوم” ہونا چاہئے۔ تاہم امام معصوم کی پہچان انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے اور یہ کام صرف ذات خدا کے لئے مخصوص ہے جو سب کے ظاہری اور باطنی احوال، اعمال، رویوں، اور خفیہ و اعلانیہ افکار سے باخبر ہو: یعنی صرف ذات باری تعالیٰ۔ نتیجہ بالکل ابہام سے پاک ہے، اور وہ یہ کہ “ائمہ کو اللہ کی جانب سے متعارف ہونا چاہئے”۔ کیا اس باطل دعوے کو قبول کیا جا سکتا ہے کہ خدا نے امام معصوم کی اطاعت کا حکم تو دیا ہو لیکن امام کو لوگوں سے متعارف نہ کرایا ہو؟!۔۔۔
4۔ لیکن غدیر، 18 ذوالحجۃ الحرام سنہ 10 ہجری تک محدود نہیں ہے۔ کیا قرآنی تعلیمات کو کسی وقت سے مختص کیا جا سکتا ہے؟!۔۔۔ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) نے فرمایا: “غدیر اُس زمانے تک محدود نہیں ہے، غدیر کو تمام زمانوں میں ہونا چاہئے، اور جو روش حضرت امیر (علیہ السلام) نے اپنی حکومت میں اپنائی ہے، وہ اقوام اور حکام کی روش ہونا چاہئے”۔ اور آپ ہی نے فرمایا: “جو ولایت حدیث غدیر میں مذکور ہے، وہ “حکومت” ہی کے معنی میں ہے”۔ (مولا یعنی فرمانروا اور حکمران)۔
اور یہ بھی رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کا بیان ہے کہ “جن لوگوں نے اسلام کو سماجی مسائل اور سیاسی مسائل سے الگ کرنے اور اس کو افراد کے شخصی مسائل اور زندگی کے خصوصی مسائل تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے اور اسلام کو سیکولر نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں، ان کا جواب مسئلۂ غدیر ہے”۔ غدیر میں اسلام کی حیات آفریں حکمرانی کی بات ہے اور یہ وہی نکتہ ہے جو زمین پر رہ گیا تھا اور اسلامی انقلاب میں، میدان میں آیا؛ اور یہی کربلا اور غدیر کا سنگم ہے جہاں یہ دونوں اکٹھے ہوئے، اور اس کے بعد ہی سرزمین ایران کے عوام نے تسلط پسند عالمی نظام کی ظلمانی چھت کو توڑ دیا اور ایک نیا منصوبہ تیار کیا۔
نیز امام سید علی خامنہ ای (حفظء اللہ) فرماتے ہیں: “حج سے واپسی پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا عظیم الشان اقدام، لق و دق صحرا کے بیچ، اپنی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں، وہ ابتدائی اقدامات اور اعلان کے بعد کے اقدامات، امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا نام لینا، اور آپ کو وصی کے طور پر متعارف کرانا اور یہ فرمانا کہ “مَن کُنتُ مَولَاهُ فَهَذا عَلىٌّ مَولَاهُ”؛ (جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں)، اس کا کوئی مطلب نہیں ہے سوا اس کے کہ اسلام میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے وصال کے بعد حکومت اور ولایت کا منصوبہ متعین کیا جائے”۔
5. مالک اشتر نے جنگ صفین میں گھمسان کی لڑائی کے بیچ حسرت بھرے لہجے میں عمار یاسر سے کہا تھا: “کاش ہم علی (علیہ السلام) کو اس دور میں لے جاسکتے جہاں ان کی قدر و عظمت کا ادراک کریں اور ان کی سیرت و تعلیمات کو اپنی زندگی میں سر فہرست رکھیں”۔ اور عمار نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے کہا تھا: “وہ دن آنے ہی والے ہیں”، اور مالک اشتر کو ایسے لوگوں کی آمد کی خوشخبری سنائی تھی جو اپنی ماؤں کی کوکھوں اور باپوں کی صلبوں میں ہیں اور جب وہ دور آئے گا – جس کی مالک اشتر کو آرزو تھی – تو وہ لبیک کہتے ہوئے آئیں گے، وہ لوگ جو “میں” اور “ہم” (اور انانیتوں) کی قید سے آزاد ہوکر خدا تک پہنچے ہونگے۔ نہ تو انہیں نفع و نقصان کی فکر ہوگی نہ ہی انہیں “بود” و “نبود” (اور ہونے اور نہ ہونے) کا غم ہوگا۔ وہ لوگ خالص محمدی(ص) اسلام کو ہی پورا دل دے بیٹھے ہیں، علی (علیہ السلام) کو اپنا امام، مولا اور مقتدیٰ جانتے ہیں۔
تاریخ پر نظر دوڑایئے تو خمینی اور خامنہ ای کے عصر کے سوا، کیا ایسا عہد اور ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو عمار کو مالک کے دیئے ہوئے وعدے سے مطابقت رکھتے ہوں؟!
6۔ عصر عاشورا، ہمارے مظلوم مولا کے “سر کا نذرانہ” دینے سے کچھ پہلے، آپ نے “ہل من ناصر” کی ندا دی تھی۔ فرزندِ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے کس کو مدد کے لئے بلا رہے تھے؟ اِس طرف تو آپ کے اصحاب خون میں لت پت ہو کر شہید ہو چکے تھے اور دوسری طرف آپ کے دشمن آپ کا خون بہانے کے لئے تلواریں لیے کھڑے تھے؛ تو پھر حسین (علیہ السلام) کا خطاب کس سے تھا! اور کس گروہ کو مدد کے لئے بلا رہے تھے؟! ہمارے حسین (علیہ السلام) جانتے تھے کہ کربلا آغازِ راہ ہے، اور عاشورا اس داستان کی شروعات ہے۔ ۔۔۔ ایک بار تاریخ کی ورق گردانی کیجئے! کیا دیکھتے ہیں؟ کیا ہمارے مولا اس وقتِ عصر اپنے – خمینی اور خامنہ ای کے زمانے کے – انصار و اعوان کو نہیں بلا رہے تھے؟ یقینا تاریخ کے دامن میں اس کے سوا کوئی بھی اس جیسا دور نہیں پایا جاتا۔
7۔ نامی گرامی مصری صحافی محمد حسنین ہیکل نے ایک بار (1978ع‍ کو) پیرس میں اور ایک بار سنہ 19 نومبر 1979ع‍ کو تہران میں، امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) سے ملاقات کی۔ انھوں نے بعد میں اس ملاقات کی روئیداد کو تقریبا 100 صفحات پر مشتمل ایک کتاب میں شائع کیا۔ وہ لکھتے ہیں: “میں نے امام خمینی کو صدر اول میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا صحابی پایا، جنہوں نے اعجاز کے ذریعے وقت کی سرنگ کو طے کیا اور موجودہ صدی میں آئے ہیں، تا کہ علی (علیہ السلام) کے سپاہیوں کو – جو ان کی شہادت اور ان کے اہل بیت (علیہم السلام) کے خون میں تڑپنے کے بعد – کمانڈر سے محروم ہو گئے تھے، کی کمان سنبھالیں اور میں یہ صلاحیت ان میں دیکھ رہا ہوں”۔
حسنین ہیکل ولایت فقیہ کو علی (علیہ السلام) کی حکمرانی کی علامت اور اس کے تسلسل، کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور کہتے ہیں: ولایت فقیہ ایک “بارودی سرنگ” تھی جس کو علی (علیہ السلام) نے صدر اول میں بچھایا تھا اور خمینی نے اسے بیسویں صدی میں استکبار کے پاؤں تلے پھوڑ دیا۔۔۔
8۔ ہنری کیسنجر کہتے ہیں: “آیت اللہ خمینی، نے مغرب کو “منصوبہ بندی کے سنجیدہ بحران” سے دوچار کیا، ان کے فیصلے اس قدر برق رفتار تھے کہ سیاست دانوں اور نظریہ سازوں سے کسی بھی قسم کی سوچ بچار کا امکان چھین لیتے تھے۔۔۔ کوئی بھی ان کے فیصلوں کا پیشگی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا، وہ آج کی دنیا کے رائج معیاروں کے بغیر دوسرے معیاروں کے مطابق بولتے اور عمل کرتے تھے۔ گویا انہیں کسی سے الہام آتا تھا، مغرب کے ساتھ آیت اللہ خمینی کی دشمنی ان کی الٰہی تعلیمات سے جنم لیتی تھی۔ وہ اپنی دشمنی میں بھی مخلص تھے”۔
9۔ مشہور امریکی ماہر عمرانیات امانوئل والرسٹین (Immanuel Wallerstein) تشویش کے ساتھ کہتے ہیں: “ہماری پیشقدمی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ امام خمینی کا نظریۂ ولایت فقیہ ہے۔۔۔ تمام نظریات وقت گذرنے کے ساتھ فرسودہ ہوجاتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں دفن ہوجاتے ہیں، لیکن امام خمینی کا نظریۂ ولایت فقیہ روز بروز تازہ تر اور جاندار تر ہوتا جا رہا ہے اور بہت سے مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتا ہے۔
اور اس طرح کے سینکڑوں دوسری مثالیں، جنہیں اس مقام پر – جہاں ہم آج کھڑے ہیں – مختصر سے غور سے، واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور پوری جرأت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے: “ایک دن یہ پوری دنیا کا نعرہ ہوگا: علی (علیہ السلام)”۔
جوش ملیح آبادی کا ایک مشہور شعر بھی اسی تناظر میں ان کی زبان سے صادر ہؤا ہے:
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حسین شریعتمداری، ایڈیٹر انچیف روزنامہ کیہان