فاران تجزیاتی ویب سائٹ: بشار الاسد کے احیاء سے لے کر امام موسی صدر کی واپسی تک، اور صیدنایا جیل سے متعلق عجیب و غریب دعوے، یہ سب وہ باتیں ہیں جو ان دنوں شام کے حوالے سے میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔
افواہوں اور حقیقت کے درمیان:
شام میں تنازعات کے آغاز کے ساتھ ہی افواہوں اور غیر یقینی خبروں کا بازار بھی گرم ہو گیا۔ مغربی ایشیا کے امور کے ماہر رضا صدر الحسینی نے شام کی پیش رفت کو “ایک ترکیبی جنگ” قرار دیا ہے۔ داخلی میڈیا نے بھی عربی اور مغربی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ہم قدم ہو کر غیر حقیقی خبریں، جھوٹی معلومات اور حتیٰ کہ عجیب و غریب افواہیں پھیلانا شروع کر دیں۔
صیدنایا جیل کے خفیہ حصے کا دعویٰ ترکی کے حکام کی تردید:
شام کے شمال میں دمشق کے قریب واقع صیدنایا جیل کے حوالے سے شامی باغیوں کی جانب سے خفیہ حصے کی موجودگی کے دعوے اور مغربی و عربی میڈیا کے پروپیگنڈے کے بعد، ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ایمرجنسی سروسز تنظیم (آفاد) کے سربراہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ تنظیم کے امدادی کارکنوں نے جیل کے تمام حصوں کی تلاشی لی ہے، لیکن کسی خفیہ حصے کا سراغ نہیں ملا۔
لیکن محض یہی تمام افواہیں نہیں تھیں انکی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہاں چند مثالیں پیش کی گئی ہیں جنہیں ایرانی میڈیا نے اٹھایا اور یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے انہیں ایران کی جانب سے بشار الاسد اور مزاحمتی محاذ کی حمایت کے لیے حملے کا بہانہ قرار دیا۔
CNN کی غیرماہرانہ منظر سازی
امریکی چینل CNN نے ایک قیدی کی ویڈیو نشر کی، جس میں دکھایا گیا کہ وہ کئی ماہ تک انتہائی بدترین حالات میں قید تھا اور یہاں تک کہ آزادی کی فضا اور سورج کی روشنی دیکھ کر جذباتی ہو گیا۔
حقیقت کیا تھی؟
اس رپورٹ کی جھوٹ پر مبنی ہونے کی علامات جلد واضح ہو گئیں، جیسے قیدی کا صاف ستھرا حلیہ اور اس کیے ساتھ ایسا بچہ جو اپنی عمر سے زیادہ اپنے والد کی خبر رکھتا ہے
ایک اور ویڈیو جو کافی ہنگامہ خیز ثابت ہوئی، اس میں رپورٹر ایک بچے سے پوچھتا ہے: “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” بچہ جواب دیتا ہے: “میں اپنے والد کی صیدنایا جیل سے رہائی کا انتظار کر رہا ہوں۔” رپورٹر پوچھتا ہے: “تم نے اپنے والد کو کب سے نہیں دیکھا؟” بچہ کہتا ہے: “14 سال سے۔” رپورٹر سوال کرتا ہے: “تمہاری اپنی عمر کتنی ہے؟” بچہ جواب دیتا ہے: “10 سال۔”
صیدنایا کا بوڑھا قیدی ، ٹک ٹاک کا انفلوئنسر نکلا
ایک اور افواہ ایک بوڑھےقیدی کی حالت کے بارے میں تھی، جس کی جسمانی اور ذہنی حالت دیکھ کر لوگ حیران تھے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ صیدنایا جیل کی حالت نے اسے اس حال میں پہنچا دیا یا اسد حکومت کی سختیوں نے اس بوڑھے کو ایسا بنا دیا لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا ایک انفلوئنسر تھا۔
لبنانی چینل پر بالی ووڈ کہانی کی نمائش
لبنانی میڈیا میں ایک اور افواہ کو بالی ووڈ کی کہانی سے مشابہت دی جا رہی ہے، جس نے سچائی کی بجائے محض سنسنی پیدا کی۔
جسمانی حالت۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ قیدی سابق حکومتی افسر تھا جسے حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
جب مصنوعی ذہانت افواہیں پھیلانے والوں کی مددگار بنی
ابتدائی جھوٹوں میں سے ایک میں کچھ تصاویر شیئر کی گئیں اور دعویٰ کیا گیا: “یہ قیدی 40 سال سے قید میں ہیں، نہ وہ موبائل کو جانتے ہیں، نہ ہی بشار الاسد کو۔”
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص نہ صرف قیدی نہیں ہے بلکہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھی اور 3 دسمبر 2024 کو ٹک ٹاک پر اپلوڈ کی گئی تھی۔
اسد کی جیل یا ویتنام کا میوزیم؟
“پہلی نظر میں، یہ منظر کسی خوفناک فلم کا لگتا ہے! لیکن حقیقت میں، یہ دمشق کی صیدنایا جیل ہے۔”
یہ دعویٰ ایک تصویر کے ساتھ کیا گیا تھا جو بعض میڈیا اداروں نے شائع کی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ تصویر دراصل مشرقی ایشیا کے ایک میوزیم کی ہے۔ اس تصویر کو پہلے “ایک سیل کی تعمیر نو” کے طور پر جانا گیا تھا، جسے عام طور پر “ٹائیگر کیج” کہا جاتا ہے اور یہ ویتنام کے شہر ہو چی منہ کے وار ریمیننٹس میوزیم میں موجود ہے۔
جب مریض کے ساتھی نے MTV رپورٹر کے جھوٹ کو بے نقاب کیا
ایک اور جھوٹے دعوے میں لبنانی (صیہونی) چینل MTV کے ایک رپورٹر نے ایک ویڈیو میں کہا:
“-ظلم و ستم اور اذیت کو دیکھو۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص صیدنایا جیل میں تھا۔
-اس کا شناختی کارڈ دیکھو، وہ لبنانی ہے۔ یہ دعویٰ جھوٹا نہیں ہو سکتا!
-مگر کارڈ کی تاریخ 2023 کی ہے۔”
اسی دوران مریض کے ساتھ موجود شخص نے کہا:
“یہ اپنی بیماری کے علاج کے لیے شام آیا تھا شام میں 30 سال بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات کا دعویٰ
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک شامی ماں اور بیٹے کی ملاقات کا منظر ہے۔ کہا گیا کہ یہ خاتون 30 سال بعد بشار الاسد کی جیل سے رہا ہو کر اپنی ماں سے ملی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ درست نہیں ہے۔ یہ ویڈیو دراصل عراق کے “ای نیوز” چینل کے پروگرام “مع رفیف الحافظ” سے تعلق رکھتی ہے، جو جنوری 2023 میں نشر کیا گیا تھا۔
امام موسیٰ صدر کے قیدی ہونے کا جھوٹ
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ دمشق کے مضافات میں واقع صیدنایا جیل سے ایسی دستاویزات ملی ہیں، جن سے امام موسیٰ صدر کے زندہ ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔
تاہم، امام موسیٰ صدر کے اہل خانہ نے ان افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں اور امام موسیٰ صدر کا صیدنایا جیل میں ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
چینی نئے سال کی تصویر کو شامی عوام کی خوشی قرار دینا
ترکی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے چین میں نئے سال کے جشن کے دوران لی گئی ٹریفک کی ایک تصویر کو شامی عوام کی خوشی کے طور پر پیش کیا، دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اپنے وطن واپس لوٹنے پر خوش ہیں۔
میکسیکو میں قتل کی تصویر کو شام کا واقعہ بنا دیا
ترکی کے میڈیا نے ایک تصویر شائع کی جو 1391 میں میکسیکو میں لوگوں کو بجلی سے قتل کرنے کے واقعے سے متعلق تھی، لیکن اسے بشار الاسد کے “مظالم” کے طور پر پیش کیا۔
صدام حسین کو زندہ قرار دینے کا دعویٰ
افواہیں یہاں تک بڑھ گئیں کہ ایک تصویر کو صیدنایا جیل میں صدام حسین کی “رہائی” کے طور پر پیش کیا گیا۔ الجزیرہ جیسے بڑے ٹی وی چینل بھی اس جعلی تصویر کے جھانسے میں آگئے اور خبر دی کہ صدام حسین زندہ ہے اور صیدنایا جیل میں پایا گیا
حقیقت یہ تھی کہ یہ تصویر فوٹوشاپ کی گئی تھی اور اصل میں جارجیا کے معزول صدر میخائیل ساکاشویلی کی گرفتاری سے متعلق تھی۔
جھوٹ جو ہر حد پار کر گیا
ان جھوٹی خبروں کا سلسلہ اتنا بڑھ گیا کہ بہت سے صارفین نے ان بے بنیاد دعووں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔
مصنف : ترجمہ زیدی ماخذ : فاران خصوصی
تبصرہ کریں