بشار الاسد کی طرف سے شام کے بحران کی نئی جہتوں کی وضاحت

شام کے صدر بشار اسد نے اپنے انٹرویو میں اس ملک کے بحران کے بارے میں کئی بار بات کی ہے، لیکن اسکائی نیوز کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں بشار اسد نے بحران کی دیگر جہتوں کی وضاحت کی۔ بشار الاسد کی گفتگو میں پہلا نکتہ شام کے تین ممالک ایران، روس اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تھا۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: شام کے صدر “بشار الاسد” نے “اسکائی نیوز” چینل پر نشر ہونے والے ایک حالیہ انٹرویو میں شام کے بحران کے مختلف پہلوؤں اور دیگر ممالک کے ساتھ ملک کے تعلقات کی وضاحت کی۔ 2011ء کے بعد شام ایک ایسے بحران میں داخل ہوا، جو اس ملک اور مغربی ایشیائی خطے کے سب سے شدید بحرانوں میں سے ایک تھا۔ شامی فوج ایک دہائی سے ایسے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ جنگ ​​میں مصروف رہی، جس میں درجنوں ممالک کے شہری شامل تھے۔ اس بحران میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی صحیح اعداد و شمار نہیں ہیں، لیکن مختلف رپورٹس کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں تقریباً نصف ملین افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک کے اندر اور باہر 11 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے۔

شام کے صدر بشار اسد نے اپنے انٹرویو میں اس ملک کے بحران کے بارے میں کئی بار بات کی ہے، لیکن اسکائی نیوز کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں بشار اسد نے بحران کی دیگر جہتوں کی وضاحت کی۔ بشار الاسد کی گفتگو میں پہلا نکتہ شام کے تین ممالک ایران، روس اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تھا۔ بشار اسد نے اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کو “شام کے دوست” ممالک سے تعبیر کیا، لیکن انہوں نے ترکی کو ایک ایسا پڑوسی ملک قرار دیا، جس نے اس ملک میں دہشت گرد گروہوں کی تشکیل میں کردار ادا کیا اور اب وہ شام کی سرزمین پر قبضہ کرنے کے درپے ہے۔ شام کے صدر کے بیانات میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی بشار الاسد سے ملاقات کا مقصد شام میں ترکی کی قابض موجودگی کو جائز قرار دینا ہے۔ اس تناظر میں بشار الاسد نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ترکی شام کی سرزمین پر قبضہ کرکے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتا رہے گا، ہم اردگان سے ملاقات نہیں کریں گے۔

بشار اسد نے کہا ہے “ترکی ہمارے ہمسایہ ممالک میں سے ایک ہے اور اس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا فطری بات ہے، لیکن تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ترکی کا شامی علاقوں سے انخلاء ضروری ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مستقبل میں مختلف حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ جس کا مطلب پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔ یہ اصول ہے، عارضی پالیسی نہیں۔” بشار اسد کے انٹرویو کی ایک اور اہم جہت شام کے بحران کی تشکیل اور مغرب کی مداخلت کے اہداف ہیں۔ شام کے بحران میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور شام کے جغرافیہ کے ایک حصے پر امریکی فوج کا اب بھی قبضہ ہے۔ بشار اسد کا خیال ہے کہ جن ممالک نے دہشت گردی کی حمایت کی، وہ شام کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اس حوالے سے شامی صدر نے ایک تزویراتی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کے مخالفین کا ہدف صرف بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا نہیں تھا، بلکہ اصل ہدف شام کو ایک کمزور ملک میں تبدیل کرنا تھا۔

اس سلسلے میں لیبیا اور عراق کے بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے، اسد نے کہا “ہم ایک وجودی جنگ کا شکار ہوئے۔ ہدف معمر قذافی نہیں تھا، لیبیا تھا۔ ہدف صدام حسین نہیں تھا، عراق تھا۔ ہدف بشار الاسد نہیں بلکہ شام تھا۔ شامی صدر کے بیانات میں یہ اسٹریٹجک نقطہ اسرائیل کا حوالہ دے کر مکمل ہوا۔ بشار اسد نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ شام کسی بھی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہیں لائے گا۔ ان کا کہنا تھا “شام کے خلاف اسرائیلی حملے اس وقت شروع ہوئے، جب شامی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف فتوحات حاصل کیں۔ جب تک اسرائیل دشمن ہے اور دہشت گردوں کے ساتھ ہے، یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔” بشار اسد کے نقطہ نظر میں شام میں دہشت گرد گروہوں کی مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی حمایت کی اصل وجہ اس ملک کو کمزور کرنا، اسے ایک کمزور ملک میں تبدیل کرنا اور صیہونی حکومت کی حمایت کرنا تھا۔