ترکی اور دہشت گردوں کی حمایت

ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی شان و شوکت دوبارہ پانے کیلئے شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی مدد کر کے بہت بڑا جوا کھیلا لیکن وہ یہ جوا ہار بیٹھا ہے۔ اس وقت نہ صرف صدر بشار اسد کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے بلکہ شام آرمی شمال میں تکفیری دہشت گروہوں کے آخری گڑھ یعنی صوبہ ادلب کو آزاد کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: ترکی میں انصاف و ترقی پارٹی اور اس کے نتیجے میں رجب طیب اردگان کے دور حکومت میں اس ملک کی خارجہ سیاست بہت زیادہ نشیب و فراز سے گزری ہے۔ ان تبدیلیوں کی بڑی وجہ ترکی کی جیوپولیٹیکل پوزیشن نیز اپنے تاریخی پس منظر میں خودمختارانہ کردار ادا کرنے کی کوشش ہے۔ اگرچہ خطے میں اسلامی بیداری کی لہر معرض وجود میں آنے سے پہلے احمد داود اوگلو کی سربراہی میں ترکی کی وزارت خارجہ ہمسایہ ممالک سے تمام تنازعات ختم کر کے خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی پالیسی پر گامزن تھی، لیکن رجب طیب اردگان نے یو ٹرن لیا اور اس پالیسی کو ترک کر کے خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے ہر قسم کا ہتھکنڈہ، حتی غیر منطقی اور نامعقول ہتھکنڈہ بھی بروئے کار لانے کا فیصلہ کر لیا۔

لہذا اپنے سیاسی جغرافیہ کی بدولت ترکی خطے میں مختلف طریقوں سے گہری اسٹریٹجک تبدیلیاں لانے کے درپے ہے۔ گذشتہ بیس برس کے دوران اس مقصد کیلئے ترکی نے مختلف حکمت عملیاں اختیار کی ہیں جن میں اپنی مضبوط معیشت (خاص طور پر اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں) پر بھروسہ کرتے ہوئے خطے کے ممالک سے اقتصادی تعلقات بڑھانا، اپنے تاریخی پس منظر کی روشنی میں وسیع ثقافتی اثرورسوخ پر زور دینا اور مختلف علاقائی بحرانوں میں موثر کردار ادا کرنا شامل ہیں۔ افریقی ملک لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قومی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش، کرد علیحدگی پسند گروہوں کو کچلنے کیلئے شمالی عراق میں فوجی مداخلت، شام میں فوجی مداخلت اور دسیوں دیگر اقدامات اسی زمرے میں آتے ہیں۔

جب 2011ء میں شام میں سکیورٹی بحران کا آغاز ہوا تو ترکی نے ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات کی پالیسی ترک کر دی۔ البتہ اس سے پہلے بھی عبداللہ اوجالان کی سرگرمیوں کے باعث ترکی اور شام مسلح ٹکراو کے دہانے تک پہنچ چکے تھے لیکن آخرکار ایڈینا معاہدے کی بدولت صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہو گئی تھی۔ شام میں دہشت گردانہ سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد رجب طیب اردگان نے اسے اپنے لئے سنہری موقع تصور کیا اور اس ملک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے بعض دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی شروع کر دی۔ ترک حکومت اس حکمت عملی کے ذریعے شام میں صدر بشار اسد کی ممکنہ سرنگونی کے بعد اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی خواہاں تھی۔ لہذا بعض عرب ممالک اور نیٹو کے رکن ممالک سے سکیورٹی اور فوجی تعاون کی صورت میں شام میں دہشت گرد گروہوں کو فوجی امداد کا آغاز کر دیا۔

اس خونی کھیل کا اصل کھلاڑی ہاکان فیڈان کی سربراہی میں ترکی کے انٹیلی جنس ادارے تھے جبکہ شام میں دہشت گردوں کی مالی امداد کی ذمہ داری خلیجی ممالک کے ذمے تھی۔ قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کے بقول ان کا ملک شام میں ترکی کے اس منصوبے کا اصل حامی تھا۔ امریکہ اور دیگر نیٹو رکن ممالک کے تعاون سے ترکی میں آپریشن روم بنایا گیا اور دنیا کے مختلف حصوں سے ہزاروں تکفیری دہشت گرد ترکی ایئرپورٹ پر لائے گئے جہاں سے انہیں شام منتقل کر دیا گیا۔ مشرقی یورپی ممالک سے وسیع پیمانے پر اسلحہ خریدنے کے معاہدے طے پائے جن کے نتیجے میں تکفیری دہشت گرد عناصر کو مسلح کیا گیا۔ معروف برطانوی صحافی رابرٹ فیسک کی تحقیق کے مطابق مشرقی یورپی ممالک سے اسلحہ سے لدے سینکڑوں ہوائی جہاز ترکی ایئرپورٹ پہنچا دیے گئے۔

عالمی سطح پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود ترکی کے اس گروہ سے براہ راست تعلقات استوار تھے۔ داعش سے وابستہ اکثر مغربی ممالک کے دہشت گرد ترکی کے ذریعے داعش میں شامل ہوئے اور اب بھی ان کی بڑی تعداد شام میں “الہول کیمپ” میں مقیم ہے۔ اسی طرح ترکی نے بالواسطہ طور پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے تیل خرید کر اس کی مالی مدد کی۔ روس کے ڈرون طیاروں نے ایسی کئی ویڈیوز بنائی ہیں جن میں آئل ٹینکرز کی لمبی لائن شام سے ترکی جاتے ہوئے دکھائی گئی ہے۔ اس تیل کا بڑا حصہ اسمگل ہو کر یورپ کی منڈیوں میں بکتا رہا ہے۔ 2015ء میں جب شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کو واضح شکست ہونا شروع ہوئی تب بھی ترکی شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی براہ راست مدد کرنے میں مصروف رہا۔

ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی شان و شوکت دوبارہ پانے کیلئے شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی مدد کر کے بہت بڑا جوا کھیلا لیکن وہ یہ جوا ہار بیٹھا ہے۔ اس وقت نہ صرف صدر بشار اسد کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے بلکہ شام آرمی شمال میں تکفیری دہشت گروہوں کے آخری گڑھ یعنی صوبہ ادلب کو آزاد کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ دوسری طرف رجب طیب اردگان کی سربراہی میں ترک حکومت اب بھی النصرہ فرنٹ اور تحریر فرنٹ جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں مصروف ہے۔ حال ہی میں صدر بشار اسد نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے جو اس تناظر میں انتہائی اہم ہے کہ شام میں سکیورٹی بحران کے آغاز پر امارات ہی دہشت گرد عناصر کی مالی امداد میں مصروف تھا۔ لہذا اب رجب طیب اردگان کی جانب سے بھی اپنی خارجہ پالیسی کی اصلاح کر کے دہشت گردوں کی حمایت ترک کر دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔