فاران تجزیاتی خبرنامہ: عبرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا وقت قریب ہے جبکہ ایک ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل نے اعتراف کیا کہ غزہ کی جنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کئی غلط مفروضوں کے درمیان پھنس گئی ہے۔
العالم – رائے الیوم کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ قابض حکومت کی کابینہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کر رہی ہے، اس حوالے سے عبرانی میڈیا نے اعلان کیا کہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی نوٹ کیا کہ سنسرشپ نے معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اس حوالے سے ہونے والی کسی بھی پیش رفت کی اشاعت کو روک دیا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اسرائیلی تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ کی پٹی میں جنگ جاری رہی تو بین الاقوامی سطح پر تنہائی میں شدت آئے گی اور اس بات پر زور دیا کہ “ہم غزہ اور جنوبی لبنان میں جتنی دیر رہیں گے، ہم باقی دنیا سے اتنے ہی دور ہو جائیں گے۔
عبرانی اخبار یدیوت اہرونوت میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں نہم برنی نے کہا کہ “اس مساوات کا خلاصہ سادہ الفاظ میں کیا جا سکتا ہے: ہم غزہ اور جنوبی لبنان میں جتنی دیر قیام کریں گے، اسکرین پر بے گھر ہونے والے شہریوں اور تباہ شدہ گھروں کی اتنی ہی زیادہ تصاویر نظر آئیں گی، اور ہم باقی دنیا سے اتنے ہی دور ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معیشت، سائنس اور نقل و حرکت کی آزادی کو پہنچنے والے نقصان نے مغرب میں اسرائیل کے تشخص کو نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف بائیں بازو کی حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد ہیں۔
عبرانی اخبار یدیوت اہرونوت میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اوی میزراہی نے کہا کہ “غزہ کی جنگ طویل عرصے سے جاری رہنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کئی غلط مفروضوں کے درمیان پھنس گئی ہے۔
پہلا مفروضہ یہ ہے کہ وہ غلطی سے یہ سمجھتے تھے کہ وہ انٹیلی جنس کے لحاظ سے صورتحال کو روکنے اور کنٹرول کرنے کا طریقہ جانتے ہیں۔ جیسا کہ سابق وزیر دفاع موشے یالون نے پہلے اعلان کیا تھا کہ حماس اور حزب اللہ کے راکٹ اسرائیل کے داخلی محاذ کے خلاف استعمال ہونے سے پہلے ان کے گوداموں میں تباہ ہو جائیں گے، جنگ نے اس مفروضے کو بدنام ثابت کیا۔
دوسرا مفروضہ جو غزہ کی جنگ میں غلط ثابت ہوا وہ یہ ہے کہ اسرائیلی سیاست دانوں نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان فرق کیا۔ تیسرا غلط مفروضہ یہ ہے کہ “مزاحمتی قوتیں صیہونی حکومت کے وجود کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ لہٰذا ہم کسی بھی وقت جنگ کی اجازت دے سکتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے خلاف فوجی محاذ کھول سکتے ہیں، اس بات کا اندازہ کیے بغیر کہ اس سے کتنا نقصان ہوگا۔
جنرل اوی میزراہی نے کہا کہ چوتھا غلط مفروضہ غزہ اور لبنان کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کا آغاز ہے جبکہ مقبوضہ علاقوں کے شمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ہوٹل سیاحوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو تباہ کن شکست اور غزہ اور لبنان میں ایک سال سے زائد عرصے کی جنگوں کے بعد چونکہ حماس ایک بڑی فوجی قوت ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین آف کمانڈ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اس کے بڑے آپریشنل انفراسٹرکچر، سرنگوں، میزائل کی پیداوار کے مقامات، گولہ بارود کے ڈپو اور مالی وسائل کی تباہی کے باوجود مزاحمت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی جنرل نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں فی الحال کوئی جنگ نہیں ہے لیکن حماس غزہ کی پٹی میں تعینات فوجیوں کے خلاف نامعلوم مقامات، فوجی اڈوں پر مہلک کارروائیاں کر رہی ہے اور وہ ان کارروائیوں کے ذریعے ہمیں غزہ کی پٹی سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پانچواں غلط مفروضہ یہ تھا کہ حماس پر کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے جو حماس کو مغویوں (قیدیوں) کو رہا کرنے پر مجبور کرے۔ حماس صرف جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے، غزہ کی پٹی سے فوج کا انخلا اور مزاحمت کے بھاری اور اہم قیدیوں کی رہائی چاہتی ہے۔
اسرائیلی جنرل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے ساتھ کسی معاہدے کی عدم موجودگی میں ہمارے قیدی قید میں مرتے رہیں گے اور شرمندگی ہمیشہ اسرائیلی معاشرے، کابینہ اور اسرائیلی سیاستدانوں کے ماتھے پر رہے گی۔ آج غزہ میں ہمارے فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘چھٹا جھوٹا مفروضہ جنوب اور شمال سے آباد کاروں کی اپنے گھروں میں واپسی کے دعوے ہیں کیونکہ غزہ کی جنگ اور غزہ کی پٹی میں ہماری موجودگی کے ساتھ ساتھ بستیوں کے خلاف ابھی بھی بہت سے حملے ہوئے تھے اور سدروٹ اور اشکلون کی بستیوں پر راکٹوں سے بھاری بمباری کی گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی گہرائیوں میں انتقامی کارروائیاں جیسے تل ابیب میں ڈولفنریم، نیتنیا میں پارک ہوٹل وغیرہ شامل تھے جاری رہیں. “
مصنف : ترجمہ جعفری ماخذ : فاران خصوصی
تبصرہ کریں