رفح کراسنگ کی بندس سے سیکڑوں زخمی فلسطینی شہید ہوگئے

فلسطین کے سرکاری میڈیا آفس نےایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی فوج کے رفح پر حملے اور رفح کراسنگ کی بندش کے 72 دنوں میں  شدید زخمی 292 فلسطینی بیرون ملک علاج سے محروم ہونے کے بعد شہید ہوگئے ہیں۔

فاران: فلسطین کے سرکاری میڈیا آفس نےایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی فوج کے رفح پر حملے اور رفح کراسنگ کی بندش کے 72 دنوں میں  شدید زخمی 292 فلسطینی بیرون ملک علاج سے محروم ہونے کے بعد شہید ہوگئے ہیں۔

فلسطین کے سرکاری دفتر نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ شہداء ان زخمیوں میں شامل تھے جنہیں غزہ کی پٹی سے باہر کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے لے جانا تھا مگر وہ سفر کے لیے رفح کراسنگ کے کھلنے کا انتظار کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جب سے اسرائیلی قابض فوج نے رفح کراسنگ کو بند کیا ہے 3500 سے زائد بیمار اور زخمی افراد کو غزہ کی پٹی سے باہر کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے جانے سے روک دیا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ 72 روز قبل اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے رفح کراسنگ کی بندش کے باعث زخمی ہونے والے شہداء کی تعداد 292 ہو گئی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ وزارت صحت کے پاس بیرون ملک علاج کے لیے سفر کے عنوان کے تحت 25000 ریفرل درخواستیں رجسٹرڈ ہیں لیکن قابض انتظامیہ کی جانب سے رفح کراسنگ کی بندش کے باعث یہ لوگ علاج کے لیے سفر کرنے سے قاصر ہیں۔

سرکاری دفتر نےبتایا کہ الشفاء میڈیکل کمپلیکس، ناصر میڈیکل کمپلیکس، الرنتیسی، الناصر، العیون، انڈونیشیائی ہسپتال، کمال عدوان ہسپتال، العودہ، القدس، ابو یوسف النجار اور یورپی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک سنگین  جرم ہے۔ قابض فوج نے ہسپتالوں پر قبضے کے بعد ان کے طبی عملے کو وہاں سے نکال دیا گیا یا انہیں حراست میں لیا گیا۔ان میں سے 500 طبی عملے کو بھی قابض فوج نے گرفتار کیا جن میں سے اب تک 310 طبی عملے کے رکن جیلوں میں قید ہیں۔