صیہونی حکومت کا فلسطینیوں کے خلاف ڈرون حملے کا فیصلہ
فاران: فارس بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صہیونی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ “یہودا اور سامرۃ” یونٹ اور مغربی کنارے میں سرگرم یونٹ کے کمانڈروں نے مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں میں حملہ آور ڈرون کے استعمال کے بارے میں تربیت حاصل کی۔
صیہونی حکومت کے “کان” ٹیلی ویژن چینل نے اطلاع دی ہے کہ میناشی علاقائی بریگیڈ (مغربی کنارے میں سرگرم فوجی دستے) کے کمانڈر کو آپریشنل ضروریات کی بنیاد پر ڈرون حملوں کے استعمال کا فیصلہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
“رائے الیوم” اخبار کے مطابق، اس صہیونی چینل کے رپورٹر روعی شیرون نے کہا کہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں کے لیے حملہ آور ڈرون درآمد کرنے کا فیصلہ اس علاقے میں کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
ان ڈرونز کو گرفتاریوں سمیت آپریشنل سرگرمیوں میں استعمال کیا جانا ہے اور اس ڈرون کے ذریعے مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا ممکن ہے۔
گذشتہ 31 مارچ کو مغربی کنارے میں مقیم فلسطینیوں کی جانب سے کی گئی سات کارروائیوں اور 17 صیہونیوں کی ہلاکت کے بعد صیہونی حکومت کے سیکورٹی اداروں نے مغربی کنارے میں ایک آپریشن شروع کیا ہے جسے “بریک واٹر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس کارروائی کے آغاز سے لے کر اب تک صیہونی حکومت نے سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے، متعدد افراد کو شہید کیا ہے اور ان کے گھروں کو اینٹی آرمر میزائلوں سے اڑا دیا ہے۔













تبصرہ کریں