صیہونی حکومت کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں، فلسطینیوں کا اعلان
فاران: عالم اسلام عرین الاسود نامی فلسطینی استقامتی گروپ کے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کا راستہ روکنا اور غاصب حکومت کا محاصرہ کرلینا تمام فلسلطینیوں کی ذمہ داری ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کے پاس فلسطینیوں کے دست استقامت سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
عرین الاسود کے بیان میں تمام فلسطینیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحریک مزاحمت کی بھرپور حمایت کریں جبکہ فلسطین کے تمام استقامتی گروہوں سےدرخواست کی گئی ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے خلاف قریب الوقوع جنگ کے لیے پوری طرح آمادہ رہیں۔
قابل ذکر ہے کہ عرین الاسود نامی استقامتی گروپ نے گزشتہ ہفتے نابلس میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سیکڑوں فلسطینی نوجوانوں پر مشتمل عرین الاسود نامی استقامتی گروپ نے، جس کا ہیڈکوارٹر قدیم نابلس شہر میں ہے، صیہونی فوجیوں اور آباد کاروں کو ہرجگہ اور ہر حال میں نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں صیہونی فوجیوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں ایک سو اکہتر فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
فلسطین کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العواودہ کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں شہید ہونے والے ایک سو اکہتر فلسطینوں میں سے چھیالیس صرف جنین کے علاقے میں شہید ہوئے۔
محمد العواؤدہ کے مطابق، مجموعی طور پر شہید ہونے والے فلسطینیوں میں سے ایک سوبیس کا تعلق مغربی کنارے سے جبکہ اکیاون کا تعلق غزہ سے تھا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں زخمی ہونے والے آٹھ سو فلسطینیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے بیشتر کو سر اور سینے پر گولیاں ماری گئی تھیں۔قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران مغربی کنارے کے علاقے میں فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ مغربی کنارے میں ہونے والی زیادہ تر جھڑپیں مسلح حملوں کی شکل میں انجام پائی ہیں جن میں بہت سے صیہونی فوجی اور آباد کار بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔













تبصرہ کریں