غاصب صیہونی رژیم کے خلاف حوثی مجاہدین کا بڑا اقدام

یمن کے حوثی مجاہدین نے اپنا مقصد بھی واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اصل مقصد غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالنا ہے تاکہ وہ غزہ پر جاری ظالمانہ اقدامات روک دے۔

فاران: غزہ پر غاصب صیہونی رژیم کی جارحیت اور دہشت گردی جیسے مجرمانہ اقدامات کو ستر دن سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہ مجرمانہ اقدامات دن رات اعلانیہ طور پر عالمی ذرائع ابلاغ کے کیمروں کے سامنے انجام پا رہے ہیں۔ دنیا کا ہر انسان صیہونی حکمرانوں کے نفرت انگیز جرائم سے باخبر ہو چکا ہے جن کے نتیجے میں اب تک 20 ہزار سے زائد عام فلسطینی شہری شہید اور 50 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری بدترین ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور ان تک حتی کھانے پینے کی اشیاء، پانی اور دوائیاں بھی نہیں پہنچ پا رہیں۔ غزہ کی پٹی میں 3 لاکھ سے زیادہ رہائشی عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں جبکہ انفرااسٹرکچر کا 60 فیصد حصہ بھی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی نذر ہو کر تباہ ہو چکا ہے۔

صیہونی حکمرانوں کے انسان سوز جرائم میں نومولود بچوں کا قتل، اسپتالوں میں زخمی اور مریض افراد کا قتل، اسپتالوں پر وحشیانہ حملے، ایمبولینسز اور میڈیکل عملے پر حملے، عام شہریوں کو جنگی قیدی بنانا، انہیں برہنہ کر دینا اور اسی حالت میں انہیں عالمی ذرائع ابلاغ پر دکھانا چامل ہیں۔ اس کے علاوہ صیہونی فوجی زچہ بچہ مراکز، آئی سی یوز، ڈائیلیسز مراکز اور بلڈ بینکس پر حملوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ عالم شہریوں کو گولی مارنے اور شہید فلسطینیوں کے بدن سے اعضاء چرانے جیسے مجرمانہ اقدامات میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ وہی شرمناک اقدامات ہیں جن کا تسلسل روکنے کیلئے یمن میں حوثی مجاہدین نے عزم راسخ کر رکھا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ انسان سوز جرائم رک جانے چاہئیں۔

حوثی مجاہدین کی جانب سے صیہونی مظالم کے تسلسل کو “نہ” کہنا درحقیقت دنیا والوں کی جانب سے اکثر ممالک، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں اور حکمرانوں کی جانب سے فلسطین میں جاری ظلم و ستم پر بے حسی کا مظاہرہ کرنے سے “نہ” کہنے کے ہمراہ ہے۔ یمن کے حوثی مجاہدین نے صیہونی جرائم روکنے کیلئے عملی طور پر مداخلت کی ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ غاصب صیہونی رژیم جن بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے انہیں لاگو ہونا چاہئے۔ یہ قوانین عام شہریوں کے قتل عام، ان کا محاصرہ کرنے، انہیں جلاوطن کرنے، ان کے خون کی ندیاں بہانے، شہروں کے اندر جنگ کرنے اور نسل کشی کو جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔ یمن کے حوثی مجاہدین کا مقصد غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈال کر اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد پر مجبور کرنا ہے۔

اقوام متحدہ اب تک غزہ میں جنگ بندی کے قیام اور وہاں انسانی امداد کی ترسیل پر مبنی دو قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ غاصب صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کرنا ہر انسان کا حق ہے اور انہیں روکنے کیلئے اپنی طاقت کی حد تک اقدام کرنا بھی ایک انسانی حق ہے۔ چاہے اس اقدام کے نتیجے میں سمندری تجارت کچھ حد تک یا مکمل طور پر بند ہی کیوں نہ ہو جائے۔ یمن کے حوثی مجاہدین نے اب تک صیہونی جرائم کی روک تھام کیلئے دو اہم اقدامات انجام دیے ہیں۔ حوثی مجاہدین نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں کسی اسرائیل کشتی کو آمدورفت کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح وہ کشتی جو اسرائیل کی بندرگاہ کی جانب جا رہی ہو اسے بھی عبور کا حق حاصل نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مذکورہ بالا دو قسم کی کشتیوں کے علاوہ باقی تمام کشتیاں معمول کے مطابق آمدورفت جاری رکھ سکتی ہیں۔

یمن کے حوثی مجاہدین نے اپنا مقصد بھی واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اصل مقصد غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالنا ہے تاکہ وہ غزہ پر جاری ظالمانہ اقدامات روک دے۔ انہوں نے اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا ہے: “محاصرے کے بدلے محاصرہ”۔ یمن کا دارالحکومت صنعا اس وقت انصاراللہ یمن کے کنٹرول میں ہے اور وہ پوری طاقت سے بحیرہ احمر میں غاصب صیہونی رژیم اور امریکہ سمیت اس کے حامی ممالک پر اپنا ارادہ تحمیل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے غزہ پر صیہونی جارحیت کے آغاز سے ہی اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ بحیرہ احمر میں حوثی مجاہدین کے اقدامات اسرائیل کیلئے انتہائی خطرناک ہیں۔ آبنائے باب المندب دنیا کے حساس ترین اور خطرناک ترین آبنائے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اگرچہ امریکہ نے بحیرہ احمر میں یمن کے خلاف عالمی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے لیکن یمن کے حوثی مجاہدین نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ پوری طاقت سے بحیرہ احمر میں غاصب صیہونی رژیم کی معیشت کا گلا گھونٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب عالمی معیشت کی شاہرگ جانی جاتی ہے۔ لہذا دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس خطے میں یمن کے خلاف فوجی کاروائی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ کیونکہ ایسی صورت میں عالمی معیشت کی یہ شاہرگ بند ہو جائے گی اور اس کا نقصان پوری دنیا کو ہو گا۔ صرف ایک راہ حل پایا جاتا ہے اور وہ امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کو غزہ میں ظالمانہ جارحیت بند کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہی یمن کے حوثی مجاہدین کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔