غزہ فورمز میں نارملائزیشن کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ
فاران: فلسطین اور بیرون ملک سے سیاسی اور قومی ایلیٹ کے شرکاء نے قابض اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے عرب حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی بھی شکل میں اسرائیل کے ساتھ تعقلات معمول پر لانے کو مسترد کرنے پر زور دیا اور اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کی دوستی اور تعلقات کے قیام کوفلسطینی عوام کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔
یہ بات “اصولوں اور مفادات کے درمیان نارملائزیشن” کے عنوان سے منعقدہ ایک پینل ڈسکشن کے دوران سامنے آئی جس کا اہتمام بائیکاٹ اور اینٹی نارملائزیشن مہم – فلسطین نے کیا تھا۔ منگل کو غزہ شہر میں فلسطینی اور عرب سیاسی اشرافیہ اور سیاسی مصنفین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے قضیہ فلسطین پر منفی اثرات اور مضمرات پر بھی روشنی ڈالی۔
مہم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک تقریر میں غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبے کے نائب سربراہ ہانی المغاری نے کہا کہ ہم فلسطینی اس بات پر متفق ہیں کہ ’نارملائیزیشن‘ جرم ہے، لیکن اس کو حقیقت میں زمینی طور پر تقویت دی جانی چاہیے۔ اس سیمینار کے ذریعے حقیقی سفارشات کے ساتھ آئیں۔
المغاری نے وضاحت کی کہ قابض ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک کی تعداد 7 ہے، اور عرب ممالک میں اس کا نسبتاً وزن 70 فیصد تک ہے۔
غزہ میں پروفیشنل سنڈیکیٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ، محمد صیام نے عرب سیاسی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ اس سے خطے میں نارملائزیشن کی حقیقت کو سمجھا جاتا ہے۔
صیام نے واضح کیا کہ قابض ریاست کے ساتھ عربوں کے تعلقات حال ہی میں شروع نہیں ہوا، کیونکہ یہ کئی دہائیوں سے خفیہ معمول کا عمل رہا ہے جسے عوام سے خفیہ رکھا گیا۔
انہوں نے نارملائزیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عرب قومی حکمت عملی کے آغاز پر زور دیا، جس کی اہم تحریک دشمن کی پالیسیوں کو خطے کے لوگوں کے سامنے اجاگر کرنا اور یہ ثابت کرنا کہ اسرائیل فلسطین پر قابض ہے۔













تبصرہ کریں