غزہ میں قتل عام اور باہ کن ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ

لازارینی نے یو این آر ڈبلیو اے کی طرف سے ایک بیان کے طور پر تقسیم کیے گئے ایک مضمون میں کہا کہ "غزہ میں مارے جانے والے بچے دہشت گرد، انسانی جانور یا جنگجو لوگ نہیں تھے جنہیں مٹا دیا جانا چاہیے"۔

فاران: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کل جمعہ کو غزہ میں اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے قتل عام کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے غاصب قابض ریاست کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کی عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

 

لازارینی نے یو این آر ڈبلیو اے کی طرف سے ایک بیان کے طور پر تقسیم کیے گئے ایک مضمون میں کہا کہ “غزہ میں مارے جانے والے بچے دہشت گرد، انسانی جانور یا جنگجو لوگ نہیں تھے جنہیں مٹا دیا جانا چاہیے”۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ “یہ انسانیت کو بچانے کا ہمارا آخری موقع ہے‘‘۔

 

یو این آر ڈبلیو اے کمشنر نے غزہ میں تمام رہائشی محلوں کو تباہ کرنے کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کی تاریخ میں ایک خطرناک سیاہ باب کھلے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال تباہ کن ہے اور اس المیے کو ختم کرنے کے لیے اب انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

 

“ایکس” ویب سائٹ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں لازارینی نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں یو این آر ڈبلیو اے کے ملازمین کے شہید ہونے والوں کی تعداد ایک ماہ میں 100 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

 

یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن پر زور دیا کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کریں اور کہا کہ اس سے کسی تباہی کو روکا جا سکتا ہے۔