غزہ ہولوکاسٹ کا 30 واں روز، بے رحمانہ قتل عام، نظام زندگی کی تباہی

غزہ کی پٹی میں غاصب صیہونی افواج کا ہولوکاسٹ مسلسل 30ویں دن میں جاری ہے۔ دشمن کے طیاروں نے درجنوں تازہ حملے کیے، رہائشی آبادیوں پر بمباری کی۔ ان کے مکینوں کے سروں پر بمباری کی، ضروریات زندگی کو نشانہ بنایا اور کئی طرف سے زمینی حملہ کیا گیا۔

فاران: قابض فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں گھروں اور شہریوں کے محلوں پر درجنوں حملے جاری رکھے ہیں جس سے مزید تباہی اور ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کئی بار پانی کے ٹینکوں اور بیکریوں جیسی ضروریات زندگی کو نشانہ بنایا ہے۔

 

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض کے جنگی طیاروں نے گذشتہ رات شمالی غزہ میں پانی کے ٹینک کو تباہ کرنے کے بعد المغازی کیمپ میں پانی کی ٹینک کو تباہ کیا۔

 

بیت لاہیا میونسپلٹی میں ایمرجنسی کمیٹی نے تصدیق کی کہ اسرائیلی قابض طیاروں نے جان بوجھ کر پانی کے کنوؤں اور ٹینکوں پر بمباری کی اور میونسپلٹی کی فراہم کردہ خدمات کو نقصان پہنچایا۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض فوج نے پانی کے ایک کنویں اور تل الذعترہ ٹینک کو نشانہ بنایا، جو بیت لاہیا کے مرکزی علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیت لاھیا میں ذبح خانے کےعلاقے، شیخ زید، قالیبو، مرکزی گلی، الحطبیہ اور المنشیہ جن کی مجموعی آبادی 70,000 افراد پر مشتمل ہے پر حملے کیے گئے۔

 

قابض طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ اور المغراقہ قصبے کو ملانے والے پل پر بمباری کی۔

 

قابض طیاروں نے شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ کے مشرق میں الجرن جنکشن کے قریب ابو الخیر مسجد کو نشانہ بنایا۔

 

قابض جنگی کشتیوں نے الشاطر کیمپ اور وسطی غزہ کی پٹی کے ساحل پر بمباری کی۔

 

قابض فوج نے خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ میں ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا اور اسرائیلی بندوق بردار کشتیوں نے خان یونس بیچ کو بھی نشانہ بنایا۔