لبنان اپنے وسائل کی لوٹ مار کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا: حسن نصراللہ

نصر اللہ نے کہا کہ "تیل اور سمندری سرحدوں کے معاملے پر ہم آنے والے دنوں میں انتظار کر رہے ہیں کہ لبنانی ریاست کے مطالبات کا کیا جواب آئے گا۔"

فاران: لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ  کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے منگل کو کہا ہے کہ ان کی جماعت آنے والے دنوں میں سمندری سرحدوں کی حد بندی کے بارے میں لبنان کے مطالبات پر اسرائیل کے جوابات کا انتظار کر رہی ہے۔

یہ بات دارالحکومت بیروت کے مغرب میں واقع جنوبی مضافات میں 10 محرم کی تقریب میں نصراللہ کی ٹیلی ویژن تقریر میں سامنے آئی۔

نصر اللہ نے کہا کہ “تیل اور سمندری سرحدوں کے معاملے پر ہم آنے والے دنوں میں انتظار کر رہے ہیں کہ لبنانی ریاست کے مطالبات کا کیا جواب آئے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “لبنان اور اس کے عوام اپنی دولت کی لوٹ مار کو مزید برداشت نہیں کر سکتے اور ہم اس جنگ میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔”

انہوں نے تفصیلات کے بغیر مزید کہا کہ “ہمیں تمام امکانات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”

نصر اللہ نے زور دے کر کہا کہ “لبنان میں کسی بھی شخص پر ہونے والا حملہ بغیر سزا کے نہیں رہے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

لبنان اور “اسرائیل” 860 مربع کلومیٹر کے سمندری رقبے پر جھگڑ رہے ہیں۔ یہ علاقہ تیل اور گیس کے وسائل سے مالا مال ہے۔ دونوں ملک امریکا کی ثالثی اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں سرحدوں کی حد بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ .