مشرق وسطیٰ میں زوال پذیر امریکی تسلط

کیا یہ صدی کا بہت بڑا معجزہ یا حیرت انگیز واقعہ نہیں کہ ایران جیسی حکومت جس پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگی ہوں، وہ امریکہ کو للکار رہی ہے اور اسی طرح سے اسرائیلی حکومت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا، مگر حماس نے غزہ کی پٹی میں ثابت کر دیا کہ کوئی قوت بھی فلسطین کی سرزمین کو ہڑپ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔

فاران: آج کرہ ارض پر جنگوں کیوجہ سے انسانیت کی مشکلات میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے، بلکہ لگتا یوں ہے کہ اولادِ آدم کی نسل کشی جاری ہے، اس حوالے سے روس یوکرائن، حماس اور اسرائیل کی جنگوں کو ایک خاص پہلو سے دیکھتے ہوئے قارئین کو چند حوصلہ افزا حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے کسی کونے میں بھی جنگی افراتفری جب پیدا ہوتی ہے تو یہ یکدم نہیں ہوتی۔ اس کی منصوبہ بندی کافی عرصہ پہلے سے شروع ہوچکی ہوتی ہے، جس کی واضح مثال روس اور یوکرائن کی جنگ ہے۔ یہ جنگ سالہا سال پہلے شروع ہوچکی تھی۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر دو متحارب ممالک اپنی کشیدگی میں دوسرے ممالک کو ہمنوا بنانے کیلئے سفارتی سطح پر رابطے مضبوط بناتے ہیں۔ جیسا کہ یہ دونوں ممالک اپنی پوزیشن کو واضح کرنے کیلئے سفارتی سطح پر سرگرم ہوگئے تھے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سفارتی اور تجارتی سطح پر پاکستان کے یوکرائن کیساتھ اچھے تعلقات تھے اور انہی اطلاعات کی بنیاد پر یوکرائن سے ہم گندم اور دوسری اشیاء خریدتے تھے۔ پھر ہمارا جھکاؤ روس کی طرف ہونا شروع ہوگیا۔ اس وقت کی حکومت یعنی پاکستان تحریک انصاف نے بھانپ لیا تھا کہ یوکرائن جو پورے یورپ اور دوسرے ممالک کیلئے فوڈ باسکٹ تھی، اس سے جنگ کے دوران خریداری میں مشکلات ہوں گی۔ لہٰذا حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم روس سے متبادل اشیاء کی خریداری کیلئے معاملات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے روس یوکرائن جنگ سے چند گھنٹے پہلے ماسکو میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم روس سے سستی گندم اور سستا خام تیل خریدنے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہیں، لیکن عمران خان جب واپس وطن پہنچے تو دونوں ملکوں کے درمیان بڑی جنگ کا آغاز ہوگیا تھا، اس میں روس سمجھتا تھا کہ وہ چند دنوں میں یوکرائن کو فتح کر لے گا، لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو نہ سکا۔

اس جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی جنگی ٹیکنالوجی آزمانے کا موقع ملا اور روس کو اپنے میزائلوں اور گولہ بارود کا تجربہ کرنے کا پلیٹ فارم مل گیا، جس کے عوض اسلامی جمہوریہ ایران نے جدید جنگی طیارے اور ایٹمی ٹیکنالوجی اور جنگی فضائیہ میں اپنی قوت کو بڑھانے کے معاہدے کئے، جس کا عملی ثبوت روس یوکرائن جنگ میں ایران کے بنائے ہوئے ڈرون طیاروں کی کارکردگی ہے کہ جنہوں نے دنیا میں اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ میں اس بات کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ اس وقت بھی روس نے امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے نکالنے کیلئے ہر قسم کا تعاون کرنے اور جنگی ساز و سامان مہیا کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ پہلے دن سے امریکہ اور اسرائیل ایران کے ایٹمی قوت بننے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے تو اس کے جواب میں ایران کا پہلا مطالبہ تھا کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے اپنے فوجی اڈوں سمیت نکل جانا اور اسرائیل کو فلسطینیوں کی سرزمین کو خالی کر دینا چاہیئے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی یورپی، امریکی یا عرب ملک نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف کوئی قدم اٹھایا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ان حالات میں دنیا میں تیسرا کردار چین کا ہے، جس نے کافی عرصہ پہلے ایران سے 400 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا۔ اسی طرح امریکہ کا ایک اور دشمن ملک شمالی کوریا بھی روس، چین اور ایران کیساتھ امریکی سامراجیت کے سامنے آگیا۔ میرے کہنے کا مقصد یہ قطعاً نہیں کہ پہلے کیا ہوا اور اب کیا ہونیوالا ہے؟ میں صرف چند نکات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ امریکہ جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھتا تھا اور جس کے سامنے کوئی ملک کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، اب اس کی وہ حیثیت نہیں رہی۔ حوثی تنظیم انصاراللہ یمن، حزب اللہ لبنان، عراق اور شام کے عسکری گروپوں کے امریکہ اور اسرائیل کیخلاف حملے اس کا ثبوت ہے کہ خطے میں امریکہ کو ہزیمت اور مزاحمت کا سامنا ہے، جس کی بنیاد اور حمایت کے پیچھے ایران ہے۔

ایران پر امریکہ، فرانس، انگلینڈ اور جرمنی نے پابندیاں لگائی تھیں، لیکن ایران پہلے دن سے ہی اپنے مطالبے پر کھڑا ہے کہ امریکہ اس خطے سے اپنی افواج اور بحری بیڑے سمیت نکل جائے۔ دوسری طرف اسرائیل نے بار بار ایرانی ایٹمی ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانے کیلئے القدس بریگیڈ کے کمانڈر شہید قاسم سلیمانی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے ماہر سائنسدان ڈاکٹر محسن فخری زادے کو شہید کر دیا، لیکن پھر بھی ایران نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی۔ یہ سائنسی ترقی امریکہ اور اسرائیل کو برداشت نہیں تھی۔ نیتن یاہو تو بار بار تشویش کا اظہار کرچکا ہے کہ ایران کے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں کامیابی کا مطلب اسرائیل کا خاتمہ ہوگا۔

دنیا کیلئے دوسری انہونی یہ ہوئی کہ حماس نے 7 اکتوبر کو دنیا بھر کو اپنی طاقت دکھانے اور 75سال سے دنیا کی مجرمانہ بے حسی کا شکار مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کیلئے ایک نئے انداز سے اسرائیل کے اندر داخل ہو کر بتا دیا کہ جب تک قبلہ اول اور فلسطین کی سرزمین سے اسرائیل کے ناپاک صیہونی اقدامات کا صفایا نہیں ہو جاتا، وہ کسی بھی بڑی قربانی کیلئے تیار ہیں۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے عرب ریاستوں اردن، مصر، شام کے علاقوں پر قبضہ کرکے گریٹر اسرائیل بنانے کی سازش کی۔ اس میں شام کی جولان پہاڑیاں، اردن کے مغربی کنارے سے بیت المقدس تک اور سرائے سینا کا علاقہ قبضے میں لیکر اسرائیل بڑی ظالم، قابض اور درندہ ریاست کے طور پر سامنے آیا، لیکن دلیر اور نڈر تنظیم حماس کی شکل میں مزاحمتی تحریک نے میدان میں آکر اسرائیل کے عربوں پر طاری خوف کے غلاف کو تار تار کردیا، جو عرب حکمرانوں کے دلوں میں بڑی مدت سے موجود تھا۔

انہوں نے 44 دنوں میں اسرائیل کی جنگی ٹیکنالوجی، ڈرون اور فضائی اثاثوں خاص طور پر ”آئرن ڈوم دفاعی سسٹم“ کو نشانہ بنا کر اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا ہے، بلکہ اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت تمام ممالک کو باور کرایا کہ جنگ حماس کے شہادت کے جذبے سے سرشار مٹھی بھر نوجوانوں نے اللہ کی نصرت سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایران اور اس کی اتحادی قوتوں نے امریکہ جیسی سپر پاور اور نہ فتح ہونیوالی طاقت کو آنکھیں دکھائیں اور مجبور کیا کہ آپ افواج کی سلامتی چاہتے ہو تو خطے کو فوری خالی کر دو۔

کیا یہ صدی کا بہت بڑا معجزہ یا حیرت انگیز واقعہ نہیں کہ ایران جیسی حکومت جس پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگی ہوں، وہ امریکہ کو للکار رہی ہے اور اسی طرح سے اسرائیلی حکومت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا، مگر حماس نے غزہ کی پٹی میں ثابت کر دیا کہ کوئی قوت بھی فلسطین کی سرزمین کو ہڑپ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ میں پرامید ہوں کہ اسرائیل سے حماس کی جنگ سرزمین فلسطین کی صیہونی حکومت کے ہاتھوں سے آزادی تک جاری رہے گی اور ہمارا قبلہ اول آزاد ہوگا۔ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کو بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اسرائیل اور اس کی اتحادی قوتوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی آزادی اور اپنے حق کو حاصل کرکے ہی رہیں گے۔