مقتدیٰ الصدر کا اسرائیل سے نارملائزیشن کو ’جرم‘ قرار دینے کا مطالبہ
فاران: عراق میں الصدر گروپ کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو ’جرم‘ قرار دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک مسودہ قانون تیار کیا ہے جسے جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پرایک ٹویٹ میں مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ ان کی جماعت کا انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اسباب میں ایک سبب اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے خلاف اور خطے میں اسرائیل کی بالا دستی کی روک تھام تھا۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی الصدر گروپ اور اس کے اتحادی ایک ایک مسودہ قانون کو پارلیمنٹ میں رائے شماری کے لیے پیش کریں گے۔
خیال رہے کہ عراق کے قانون کے تحت ملک میں صہیونیت کی ترویج پر قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔ اس قانون کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے جرم پر سزائے موت مقرر ہے۔
عراق کے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات نہیں ہیں اور عراق کی بیشتر بڑی سیاسی قوتیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کےخلاف ہیں۔













تبصرہ کریں