نیتن یاہو اور مگر مچھ کے آنسو۔۔۔!

حماس کی تحریک نے  صہیونی فوج کے بمباری میں مارے گئے 4 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی منتقلی کے ساتھ ہی اعلان کیا کہ صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان قیدیوں کے قتل کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فاران: حماس کی تحریک نے  صہیونی فوج کے بمباری میں مارے گئے 4 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی منتقلی کے ساتھ ہی اعلان کیا کہ صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ان قیدیوں کے قتل کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی فارس کے مطابق، حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “کتائب القسام اور مزاحمت نے قیدیوں کی لاشوں کی منتقلی کے دوران ان کی عزت اور ان کے خاندانوں کے جذبات کا خیال رکھا، جبکہ قابض فوج نے ان کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں دی۔” حماس کا مزید کہنا تھا: “ہم نے قابض فوج کے قیدیوں کی حفاظت کی، جو کچھ بھی ہم کر سکتے تھے ان کے لیے فراہم کیا اور ان کے ساتھ انسانیت کے مطابق سلوک کیا، لیکن ان کی فوج نے ان قیدیوں کو ان کے محافظوں کے ساتھ قتل کر دیا۔”
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے ان قیدیوں کو ان کے رکھے جانے والے مقامات پر نشانہ بنایا اور قابض حکومت نازی حکومت کی طرح ان کی موت کی پوری ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے کئی بار قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں رکاوٹ ڈالی۔ حماس نے مزید کہا: “آج، نتن یاہو، جو ایک مجرم ہیں، اپنے قیدیوں کی لاشوں پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اور عوام  کے سامنے ان کے قتل کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے صپیونی قیدیوں کی جان بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن قابض فوج کی وحشیانہ اور مسلسل بمباری نے تمام قیدیوں کو بچانے میں رکاوٹ ڈالی۔ حماس کے بیان میں ان خاندانوں سے، جو آج اپنے بیٹوں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں، کہا گیا: “ہم چاہتے تھے کہ ہم آپ کے بیٹوں کو زندہ آپ کو واپس کریں، لیکن آپ کی فوج اور حکومت کے رہنماؤں نے انہیں زندہ واپس کرنے کی بجائے مارنے کو ترجیح دی۔ ان کے ساتھ ہی ۱۷,۸۸۸ فلسطینی بچوں کو بھی غزہ کی وحشیانہ بمباری میں قتل کر دیا گیا۔”
حماس نے مزید کہا: “ہم جانتے ہیں کہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہہں کہ ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔ آپ اس قیادت کے شکار ہوئے ہیں جسے اپنے بچوں کی فکر نہیں تھی۔” مزاحمت نے آخر میں اعلان کیا: “ہم واضح کرتے ہیں کہ قیدیوں کا تبادلہ ہی زندہ قیدیوں کو ان کے خاندانوں تک پہنچانے کا واحد راستہ ہے۔ اس بات کی کوششیں، خواہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے ہوں یا جنگ کی طرف واپسی، صرف مزید قیدیوں کی اموات کا باعث بنیں گی۔”
آج صبح، فلسطینی مزاحمت نے ایک تقریب کے دوران اسرائیلی قیدیوں “شیری سلفرمان بیباس”، “کفیر بیباس”، “ارئیل بیباس” اور “عودید لیفشتس” کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کیں، جو بمباری میں مارے گئے تھے۔