نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں میں تیزی کا حکم دے دیا

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو تل ابیب کے قریب متعدد بسوں میں ہونے والے دھماکوں کے بعد فوج کو مغربی کنارے میں "شدید" آپریشن کرنے کا حکم دیا۔
فاران: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو تل ابیب کے قریب متعدد بسوں میں ہونے والے دھماکوں کے بعد فوج کو مغربی کنارے میں “شدید” آپریشن کرنے کا حکم دیا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کو ہونے والے دھماکے “ایک ناکام اجتماعی حملہ” تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ تل ابیب کے قریب دو مضافاتی علاقوں میں تین بسوں میں دھماکے ہوئے اور چار دھماکہ خیز آلات دریافت ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے مسافروں سے خالی کھڑی بسوں میں ہوئے۔
ان دھماکوں نے مقبوضہ فلسطین میں بسوں پر ان مہلک حملوں کی یاد تازہ کر دی جو سنہ 2000 کی دہائی میں فلسطینی انتفاضہ کے دوران ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات میں پولیس اور داخلی سلامتی کے ادارے (شن بیت) کی مدد کر رہی ہے۔
ابھی تک کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اس نے واقعے کے بعد وزیر دفاع، آرمی کمانڈر، شن بیٹ کے سربراہ اور پولیس چیف سے ملاقات کی۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ٹائمرز کے ساتھ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کا پتہ چلا ہے اور مزید آلات کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔
 میڈیا کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو میں پارکنگ میں ایک جلتی ہوئی اور دوسری جلی ہوئی بس کی تصویریں دکھائی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیاں تیز کرے گی اور کچھ علاقوں کے داخلی راستے بند کر دیے ہیں۔