کیا حماس نے اسرائیل کے ایٹمی ٹھکانے پر حملہ کر دیا، امریکیوں کا بڑا انکشاف
فاران: نیویارک ٹائمز اخبار نے ایک ورچوئل تجزیہ کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ غالباً حماس کے مجاہدین کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملے کے دوران ایک راکٹ سے اسرائیل کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جس میں جوہری میزائل رکھے ہوئے تھے اور ماہرین کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
امریکی سائنسدانوں کی فیڈریشن میں نیوکلیئر انٹیلی جنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہنس کرسٹینسن نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ممکنہ طور پر بیس پر 25 سے 50 جیریکو جوہری صلاحیت کے حامل میزائل لانچر موجود ہیں۔
ماہرین اور امریکی حکومت کی غیر اعلانیہ دستاویزات کے مطابق اسرائیل کے جیریکو میزائل جوہری وار ہیڈز سے لیس ہیں۔
مسٹر کرسٹینسن نے جنہوں نے مذکورہ فوجی اڈے کا معائینہ کیا ہے، کہا کہ ممکنہ طور پر وار ہیڈز کو بیس سے دور کسی الگ جگہ پر ذخیرہ کیا گیا تھا اور اس وجہ سے حملے کے دوران انہیں خطرہ لاحق نہیں ہوا۔
اس امریکی اخبار کے مطابق، یہ حملہ، جس کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی، سدوت میخا کے علاقے میں ہوا اور یہ فلسطینی مجاہدین کی جانب سے کسی ایسی جگہ پر حملے کا پہلا اعلان کردہ واقعہ ہے جس پر اسرائیلی جوہری ہتھیار ہونے کا شبہ ہے۔













تبصرہ کریں