کیا غزہ پر زمینی حملہ ہو سکتا ہے؟

غزہ کی پٹی پر قبضے کے نتیجے میں اسرائیل کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے ممکنہ منفی ردعمل بھی سامنے آئے گا۔ بیشتر یورپی ممالک مغربی کنارے میں اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قبضہ سمجھتے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق غزہ کی پٹی کو فلسطینیوں کی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس علاقے پر صیہونیوں کے قبضے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس لیے یورپ کا غزہ پر قبضے میں تل ابیب کے ساتھ زیادہ تعاون ممکن نہیں ہوگا۔

فاران: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حالات بدستور غیر یقینی ہیں۔ صیہونی قابض غزہ سے ملحقہ شہروں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ قابضین کو ان شہروں پر مکمل کنٹرول کے لیے ایک طویل اور مشکل راستہ درپیش ہے۔ ادھر عبرانی زبان بولنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ حماس کے ایک ہزار سے زائد ارکان اب جنوبی اسرائیل میں گھس چکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک مقبوضہ قصبوں اور شہروں کی سلامتی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے غزہ کی سرحد کے پیچھے کم از کم ایک لاکھ فوجی تعینات کر دیئے ہیں اور غزہ کی سرحد کے پیچھے فوجی ساز و سامان اور ٹینکوں کو بھی پہنچا دیا ہے۔ موجود شواہد سے محسوس ہو رہا ہے کہ صیہونی حکومت غزہ پٹی میں فوجی مداخلت یا زمینی حملے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صیہونی اخبار Ha’aretz نے گذشتہ روز اعلان کیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ایک فون کال میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب صیہونی فوج نے غزہ کی سرحد کی طرف پیش قدمی کی ہے اور ریزرو سکیورٹی فورسز کو طلب کر لیا ہے۔ عبرانی ذرائع کے مطابق کم از کم 300,000 فوجیوں کو ہنگامی خدمات کے لیے بلایا گیا ہے، جو کہ اسرائیل کی تاریخ میں ریزرو فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ دوسری جانب صیہونی حکومت کے وزیر جنگ یوف گلانت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے خلاف جنگ کم از کم چند ہفتے جاری رہے گی۔ موجودہ حالات میں بعض شواہد غزہ کی پٹی میں صیہونی فوج کے زمینی حملے کے امکان کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ صہیونی فوجی زمینی راستے سے غزہ کی پٹی میں آسانی سے داخل نہیں ہوسکیں گے۔ صیہونی فوج کے زمینی داخلے کے سلسلے میں چند سنگین رکاوٹیں ہیں، جن میں درج ذیل کا ذکر کیا جا سکتاہے۔

اسرائیلی قیدی:
بلاشبہ صیہونی حکومت کے داخلے کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ اس حکومت کے قیدیوں کی حالت ہے، جو اب فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے ہاتھ میں ہیں۔ صہیونی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے ہاتھوں میں اسرائیلی قیدیوں کی تعداد 100 افراد تک ہے جبکہ فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے پاس صیہونی قیدیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عبرانی زبان کے ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز اور طوفان الاقصی آپریشن کے پہلے دن کم از کم 750 اسرائیلی لاپتہ ہوگئے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان لاپتہ افراد میں سے کچھ فلسطینی مجاہدوں کے پاس ہوں۔ غزہ کی پٹی میں صہیونی فوج کے زمینی داخلے سے اسرائیلی قیدیوں کی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔ قیدیوں کی بڑی تعداد اور ان کے اہل خانہ کا قیدیوں کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لیے دباؤ صیہونیوں کے غزہ کی پٹی میں داخلے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

پیچیدہ اور گنجان آباد آبادیاتی ڈھانچہ:
غزہ کی پٹی دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے، جس کی آبادی 2,200,000 افراد پر مشتمل ہے۔ اس جغرافیائی علاقے میں کئی منزلہ عمارتیں اور ایک دوسرے کے اندر گلیاں اور کوچے ہیں۔ ان گھناؤنے حالات میں صہیونیوں کے لیے شہری جنگ بہت مشکل ہو جائے گی اور جغرافیائی طور پر زمین پر پیش قدمی ممکن نہیں ہے، کیونکہ عمارتوں میں گھات لگا کر گوریلوں اور سنائپرز کے حملے صہیونی فوج کی پیش قدمی کو روک سکتے ہیں۔

بین الاقوامی دباؤ:
غزہ کی پٹی پر قبضے کے نتیجے میں اسرائیل کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے ممکنہ منفی ردعمل بھی سامنے آئے گا۔ بیشتر یورپی ممالک مغربی کنارے میں اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قبضہ سمجھتے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق غزہ کی پٹی کو فلسطینیوں کی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس علاقے پر صیہونیوں کے قبضے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس لیے یورپ کا غزہ پر قبضے میں تل ابیب کے ساتھ زیادہ تعاون ممکن نہیں ہوگا۔

عرب دنیا کا منفی ردعمل:
عرب دنیا میں جنوب کے مقبوضہ علاقوں میں حماس کی فورسز کی کارروائیوں سے شہریوں کی طرف سے کافی ہمدردی اور حمایت پائی جاتی ہے اور عرب شہری تو یہاں تک توقع رکھتے ہیں کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی کارروائیاں قدس کی آزادی تک جاری رہیں گی۔ فلسطینی مزاحمت کے ساتھ عرب شہریوں کی ہمدردی کی وجہ سے عرب حکومتوں نے فلسطین میں ہونے والی پیش رفت پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا، حتیٰ کہ بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے بھی، جنہوں نے تل ابیب کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لایا ہے، اس موقع پر صیہونی حکومت کی ہاں میں پاں ملانے سے پرہیز کیا ہے۔ دوسری جانب غزہ کی پٹی میں صہیونیوں کا داخلہ تل ابیب کے قریب سمجھے جانے والی عرب حکومتوں کی مذمت کا باعث بن سکتا ہے اور عملی طور پر عرب حکومتوں کے ساتھ تل ابیب کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل میں خلل پڑ سکتا ہے۔

آخری اور سب سے اہم صیہونیوں کا عزم و حوصلہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فوجیں اپنے مورال پر لڑتی ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں کا مورال اس وقت زیرو ہے، وہ فلسطینی مجاہدوں کے سائے سے بھی خوفزدہ ہیں۔ طوفان الاقصیٰ کے دوران فلسطینی مجاہدوں نے جس دلیری اور مہارت سے یہ آپریشن انجام دیا، اس نے صیہونی فوج کے کمانڈروں سے لیکر عام سپاہی کو ایک عجیب خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک خوفزدہ فوج زمینی حملہ اور دوبدو جنگ نہیں کرسکتی۔ زمینی جنگ کے لئے جو شرائط ضروری ہیں، وہ صہیونی فوج میں نظر نہیں آرہیں۔ الا یہ کہ صیہونی حکومت غزہ کے اس علاقے کو کارپٹ بمبنگ سے مکمل تباہ کر دے اور ایک بھی فلسطینی مجاہد مقابلے میں موجود نہ ہو۔

بہرحال مذکور عوامل کی وجہ سے صہیونی فوج کے پاس زمینی راستے سے غزہ پٹی میں داخل ہونا انتہائی دشوار امر ہے اور اس کے لئے ایک بڑی تعداد میں انسانی جانوں کی قربانی ناگزیر ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمینی حملے کی صورت میں اس کا بھی امکان ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام سے عالمی برادری اسرائیل کی مخالف ہو جائے اور عالمی ادارے بھی اسرائیل کی حمایت ترک کر دیں۔