رکن اسلامی جہاد تحریک: (۲)

امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) نے مسلمان فلسطینی نوجوانوں کو حوصلہ عطا کیا

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غزہ میں اسلامی مقاومتی محاذ اللہ کے فضل سے بہت طاقتور ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ہمہ جہت حمایت کا ثمرہ ہے؛ ایران اس سلسلے میں دباؤ کا سامنا کرتا آیا ہے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ ایران کے خلاف مغربی دباؤ ماضی میں بھی ناکام رہا ہے اور آج بھی ناکام اور مہمل ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: اسلامی انقلاب کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے استکباری طاقتوں – بالخصوص امریکہ – کے مقابلے میں ایک جدید نمونۂ عمل پیش کیا، جس [امریکہ] نے ہمیشہ سے دنیا پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش کی ہے اور آج بھی اس کوشش میں مصروف ہے؛ اور ممالک اور حکومتوں پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ امریکی پالیسیوں کی مخالفت نہ کریں۔
ہمیں اسلامی انقلاب سے پہلے کے سالوں کو یاد رکھنا چاہئے جبکہ شاہ کی استبدادی حکومت مکمل طور پر امریکہ اور اس کی پالیسیوں کی تابع تھی اور اس کو خلیج فارس کے پولیس مین (gendarme) کا لقب دیا گیا تھا اور اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ اس خطے میں امریکہ اور غاصب اسرائیلی ریاست کے مفادات کی حفاظت کرے۔ وہ اپنی قوم کو کچل دیتی تھی اور ہر اٹھنے والی صدا کو خاموش کر دیتی تھی اور مساجد کو محدود کر دیتی تھی، علماء اور دانشوروں کو جیلخانوں میں بند رکھتی یا قتل اور جلا وطن کرتی تھی۔
شاہ کے زمانے کا ایران ایک آلہ کار تھا جو امریکہ اور غاصب اسرائیل کے مفادات کے تحفظ پر مامور تھا لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران ایک آزاد اور خودمختار ملک میں تبدیل ہؤا، اس نے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کیا اور اسرائیل کے سفارتی عملے کو نکال باہر کیا اور فلسطین پہلی بار اس خطے میں ایک ملک کی حیثیت سے ابھرا اور اسلامی انقلاب نے اسرائیلی سفارتخانے کی عمارت کو فلسطین کے سپرد کیا اور تہران میں اس خطے کی پہلی فلسطینی سفارت قائم ہوئی۔ اسلامی انقلاب کے بعد جن فلسطینی راہنماؤں نے ایران کا دورہ کیا ان میں تحریک آزادی فلسطین کے قائد یاسر عرفات مرحوم، شامل تھے۔
ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مستحکم اور پائیدار اقتصاد، سیاست اور سلامتی کے معاملات میں آزاد نمونۂ عمل کی حیثیت اختیار کرلی۔ ایران اب نمونۂ عمل اور رول ماڈل بننے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ایران نے دنیا بھر میں فلسطین کاز نیز مختلف مسائل میں عربوں کی حمایت کی ہے، جس کی وجہ سے عربوں اور مسلمانوں کے دشمن – بالخصوص امریکہ – اس ملک سے ناراض ہیں۔

ایران فلسطین کاز کی حمایت کی قیمت ادا کر رہا ہے
ایران چار عشروں سے مغربی پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے اور اپنی آزاد اور مستقل پالیسیوں نیز سیاست، معیشت، سلامتی اور عقائد و نظریات میں مغرب سے بےنیاز مستقل رول ماڈل میں تبدیلی پر اصرار کی بنا پر آج تک امریکہ اور اس کے حواریوں کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایران فلسطینیوں اور عالمی مستضعفین کی حمایت کی قیمت ادا کر رہا ہے، اور فلسطین اور فلسطینی قوم کی حمایت کے حوالے سے ایران کا شجاعانہ موقف ہی اپنے خلاف کئی عشروں سے لگی مغربی پابندیوں کا باعث ہؤا ہے اور ان پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مغرب اور اس کے حواریوں کی پابندیاں ایران کی پالیسیوں میں تبدیلی کا سبب نہیں بن سکی ہیں اور ایران نے جو نمونۂ عمل دنیا والوں کے سامنے رکھا ہے مغرب اس کا خاتمہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
ایران اپنی پالیسیوں، اصولوں اور پروگراموں کا پابند ہے اور مغربی دباؤ اور اشتعال انگیز مغربی اقدامات فلسطین سمیت علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے ایران کی پالیسیاں تبدیل نہیں کرسکے ہیں۔

اسلامی انقلاب کے رہبر امام سید علی خامنہ ای کی شخصیت
امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی رحلت کے بعد نہایت دشوار حالات میں ایران کی راہنمائی کی، انہیں بےشمار دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا مگر امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے راستے پر ثابت قدم رہے اور امریکہ اور غاصب اسرائیل دشمن کے دباؤ کا زبردست مقابلہ کیا جبکہ دشمن ایران کے عزم کو کمزور اور اس نمونۂ عمل کا خاتمہ، کرنا چاہتے تھے۔ امام خامنہ ای نے مشکل ترین حالات میں زیرک اور دانشمند قیادت کی مثالیں قائم کر لیں کامیابی کے ساتھ ، اسلامی انقلاب کے اصولوں اور پروگراموں اور اس کے خلوص کو محفوظ رکھا۔

فلسطینی کاز کے حوالے سے ایران کا موقف مستحکم ہے جو کبھی نہیں بدلے گا
فلسطینی کاز کے سلسلے میں ایران کا موقف تبدیل کرنے کے لئے استکبار اور صہیونیت کی کوششوں میں اب تک کوئی کمی نہیں آئی ہے، بے شک یہ ملک اپنا موقف اور عزم تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور ہر موقع پر ملت فلسطین کی حمایت پر زور دیتا آیا ہے۔ ہم بھی ہر موقع مناسبت پر اس حقیقت کا آشکارا اعلان کرتے ہیں اور ماضی اور حال میں فلسطین کے حق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کا شکریہ کرتے ہیں اور اس کے قدردان ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غزہ میں اسلامی مقاومتی محاذ اللہ کے فضل سے بہت طاقتور ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ہمہ جہت حمایت کا ثمرہ ہے؛ ایران اس سلسلے میں دباؤ کا سامنا کرتا آیا ہے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ ایران کے خلاف مغربی دباؤ ماضی میں بھی ناکام رہا ہے اور آج بھی ناکام اور مہمل ہے۔
ایران کی پالیسی ثابت اور مستحکم ہے اور فلسطینی قوم جانتی ہے کہ فلسطین ایران کی حکمت عملیوں میں سرفہرست ہے؛ اور فلسطین کاز کے سلسلے میں ایران کا نقطۂ نظر اس گہرے یقین و اعتقاد سے جنم لیتا ہے کہ فلسطین عربوں اور مسلمانوں کے ہاں کا بنیادی مسئلہ ہے اور روئے زمین پر رہنے والے ہر مسلمان کا بنیادی مسئلہ ہے چنانچہ ایران فلسطین کے سلسلے میں اپنے شرعی فریضے پر عمل پیرا ہے اور زور دے کر اعلان کرتا ہے کہ صہیونی دشمن اور اس کے آقاؤں کے خلاف جہاد میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔